سیاسی منظرنامہ مارچ 2020 میں واضح ہوگا

سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت مسترد ہونے اور دوبارہ جیل چلے جانے جب کہ آصف زرداری کی عبوری ضمانت میں 15 مئی تک توسیع ہونے سے پیدا شدہ سیاسی صورتحال کے بارے میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کے پی ٹی آئی کی حکومت کو لانے والوں نے فی الحال دونوں بڑی مخالف سیاسی جماعتوں کی قیادت کو مقدمات اور عدالتی پھیروں میں مصروف رکھا ہوا ہے اور اگلے 6 سے 9 مہینے میں صورتحال واضح ہوگی اس دوران شہباز شریف نے اپنے لیے جو کوشش کی تھی وہ کامیاب نہیں ہو سکی اس لئے ابو نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اگر اپنا سیاسی مستقبل روشن رکھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی پاکستان واپس آئیں اور مقدمات کا سامنا کریں کچھ عرصہ جیل میں گزاریں اور اس کے بعد اپنے سیاسی مستقبل کی اڑان بھرے۔


سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نوازشریف اور آصف زرداری کو کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں چاہے ان کی حکومت کتنی ہی مشکلات کا شکار ہوتی ہے۔
نواز شریف نے بجلی 6 میں نے جو خاموشی اختیار کی تھی اب اس میں تبدیلی سامنے نظر آ رہی ہے انہوں نے مریم نواز کو سیاست میں متحرک کردیا ہے اور آنے والے دنوں میں مریم نواز حکومت کے لیے نئے فرنٹ کھولیں گی جہاں پر حکومت کو آپریشن کے دباؤ کا سامنا رہے گا۔
نواز شریف کو ان کے دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ بالکل خاموشی سے کام نہیں چلے گا انہیں حکومت پر دباؤ بڑھانا پڑے گا اس لیے انہوں نے شہباز شریف کی پالیسی کے برعکس مریم نواز کو پارٹی میں نہ صدرکاعہدہ دیکھ کر سیاسی مخالفین کو پیغام دے دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ نون بھی اپوزیشن پارٹی کی حیثیت سے حکومت پر دباؤ بڑھائے گی۔


دوسری طرف آصف علی زرداری نے خود دینی آواز رکھی ہوئی ہے لیکن بلاول کو اونچا بولنے کی اجازت دے رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ جیل جانے سے بچے ہوئے ہیں ۔جس دن وہ جیل چلے گئے اس دن صورتحال مختلف ہوجائیگی۔
مولانا فضل الرحمان بالکل تیار بیٹھے ہیں کہ آصف زرداری اور نوازشریف ان کو گرین سے نکلتے ہیں تو حکومت کے خلاف اومار یا دھرنا سیاست کا آغاز کرکے حکومت کو مشکلات سے دوچار کیا جائے۔
پہلے نواز شریف اپنے پارٹی اور خاندان کے معاملات کے بہتر ہونے کا انتظار کر رہے تھے اور خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور مولانا فضل الرحمان کو گرین سگنل نہیں دے رہے تھے۔
اب آصف زرداری بھی اپنے مقدمات کا معاملہ دیکھ رہے ہیں اور اگر انہیں ریلیف ملتا ہے تو پھر وہ بھی مزید خاموشی اختیار کرنے میں ہی بہتری محسوس کریں گے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سال حکومت مشکلات میں گزرے گی لیکن اپوزیشن کی طرف سے حکومت گرانے کی کوئی بڑی تحریک سامنے آنے کا امکان کم ہے ۔کیونکہ مقدمات قائم ہیں ایک کے بعد دوسرا مقدمہ دوسرے کے بعد تیسرے مقدمہ بن سکتا ہے ان کی سزائیں ہوسکتیں ہیں اپیلیں ہو سکتی ہیں ضمانت مسترد ہو سکتی ہے پہلے ٹرائل کورٹ پھر ہائیکورٹ پھر سپریم کورٹ تک معاملہ چلیں گے لہذا ان معاملات کو منطقی انجام تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔


سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت سے نو مہینے میں اپنی کارکردگی واضح طور پر عوام کے سامنے لا سے کہیں اگر اسکی کارکردگی بہتر رہی تو اسے مزید وقت دینے کا موقع نہ مل جائے گا اگر کارکردگی خراب رہی اور عوام کا موڈ بدل گیا اور لوگ سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہوگئے تو پھر حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوجائیگی اور اس صورتحال کا فائدہ بڑی مخالف سیاسی جماعتیں اٹھائی گئی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت احتساب کا نعرہ لگا کر اور لوٹا ہوا مال پاکستان کے خزانے میں واپس لانے کی بات کرتی رہی ہے آنے والے دنوں میں اسے ان نعروں پر عمل کرکے دکھانا ہوگا بصورت دیگر عوام کا اعتماد حکومت سے اٹھ جائے گا۔
آنے والے دنوں میں عوام نوکریوں کے منتظر ہیں حکومت نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر بنا کر دے گی۔
ابھی تک حکومت مہنگائی کے سونامی پر قابو نہیں پاسکی گیس بجلی پیٹرول ہرشے کی قیمت بڑھنے سے ہر طرف مہنگائی ہی مہنگائی ہے ۔حکومت کے لیے اپنی معاشی ٹیم تبدیل کر لینے کے بعد اصل چیلنج عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں