مریم نواز کی نظریں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر ہیں

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پارٹی میں نائب صدر کا عہدہ حاصل کر لینے کے بعد بہت زیادہ متحرک اور مؤثر ا پوزیشن کی سیاست شروع کرنے والی ہے پارٹی ذرائع کے مطابق مریم نواز کی نظریں اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر لگی ہوئی ہیں ان کے والد ابھی مقدمات کو بہت رہے ہیں اور چچا لندن میں علاج کرارہے ہیں ان حالات میں مریم نواز کو پارٹی کی قیادت سنبھالنے یا قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرنے کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا شریف خاندان کے اندر اور پارٹی کی اعلی قیادت میں اس قسم کی صورتحال سے پارٹی کو نکالنے کے لیے مشاورت کا عمل جاری ہے مریم نواز کے اپوزیشن لیڈر بننے کے دو واضح اشارے موجود ہیں پہلا شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر کی بجائے باقی دو عہدے یعنی کے پارلیمانی لیڈر اور چیئرمین پی اے سی کے عہدے خالی کرنے کا عندیہ دیا ہے اور ان کی جگہ خواجہ آصف اور رانا تنویر کے ناموں پر بحث ہوئی ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ فلحال شہباز شریف نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور اگر انہیں بیرون ملک اپنا قیام طویل کرنا پڑا تو غالب امکان ہے کہ شہباز شریف کو پارٹی قومی اسمبلی میں لانے اور پھر اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر بٹھانے کی تیاری کرے گی مریم نواز کے پارٹی میں بڑھتے ہوئے کردار کی وجہ سے ہیں چوہدری نثار علی خان جیسے پرانے مسلم لیگی پارٹی سے اپنی راہیں جدا کرنے کا باضابطہ اعلان کر چکے ہیں۔


سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں مریم نواز کو پارلیمنٹ کا حصہ بھی بنایا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں پارٹی کے اندر تیاریاں جاری ہیں۔ نوازشریف نے چھ ہفتے کی رہائی کے دوران پارٹی کے معاملات میں جو مشاورت کی ہے اس سے سیاسی مبصرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اب مسلم لیگ نون زیادہ پرجوش متحرک اور مؤثر کردار ادا کرے گی اور اپوزیشن بن کر دکھائے گی اور حکومت کے لئے آنے والے دنوں میں اصل اپوزیشن کا چیلنج مسلم لیگ نون دے گی۔ شہباز شریف کی نرم رویہ والی سوچ اور پالیسی کو پارٹی نے مسترد کردیا ہے اور پارٹی کے اندر دباؤ موجود ہے کہ پارٹی کارکنان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے پارٹی کو فرنٹ فٹ پر آکر کھیلنا چاہیے موجودہ صورتحال میں اس کام کے لیے مریم نواز سے بہتر اور کوئی شخصیت پارٹی کے پاس موجود نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں