پوچھے گئے 27 عدالتی سوالات کا جواب دینا کیا پرویز مشرف کے لیے اعتراف جرم کے مترادف ہوگا؟

عدالت نے سابق صدر پاکستان جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے جو 27 اہم سوالات پوچھے ہیں ان کے حوالے سے قانونی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ آیا جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ان سوالات کا جواب دیں گے یا نہیں ؟اگر وہ ان سوالات کا جواب نہ دے تو عدالت ان کے بارے میں یکطرفہ فیصلہ سنا سکتی ہے یا انہیں ایک اور موقع دیا جا سکتا ہے ۔اگر وہ ان سوالوں کا جواب دیتے ہیں تو کیا ایسا کرنا ان کے لیے اعتراف جرم کرنے کے مترادف تو نہیں ہو جائے گا ؟یہ قانونی نقاط ہے قانونی معاملے ہیں اور اس پر آئینی اور قانونی ماہرین ہی بہتر رائے دے سکتے ہیں۔


یاد رہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے 342 کے بیان کے لیے سوالات بھیجے گئے ہیں سابق صدر سے پوچھا گیا ہے کہ 15 دسمبر 2007 کو بطور صدر پاکستان ایمرجنسی نفاذ کیلئے عبوری آئین کا فرمان منسوخ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ۔کیا یہ بھی درست ہے کہ اپنے شک 270 آئی اے کو آئین میں شامل کرکے ایمرجنسی نفاذ تا اختتام کو جائز قرار دلوایا ۔کیا آپ اپنے دفاع میں کوئی ثبوت پیش کرنا چاہیں گے ۔یہ اور اس جیسے 27 سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کے قانونی جوابات عدالت میں داخل کیے جانے ہیں جس کے بعد مقدمہ آگے بڑھے گا پرویزمشرف علیل ہونے کی وجہ سے پاکستان نہیں اس کے ان کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ عدالت میں پیش ہو جائیں گے لیکن ڈاکٹروں نے انہیں فضائی سفر کرنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ پاکستان نہیں آ سکے اور عدالت میں پیش نہیں ہو سکے لہذا عدالت نے اب ان کو 27 سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھیجا ہے تاکہ وہ اپنے دفاع میں جوابات دے سکیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں