تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب – یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

کراچی یونیورسٹی کے ایکٹنگ وائس چانسلر پروفیسر خالد محمود عراقی کو ناکام بنانے کے لیے ان کے مخالفین نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تمام حربے استعمال کئے ان کے ماضی کو کھنگالا ،ان کے حالیہ اقدامات اور فیصلوں کا پوسٹ مارٹم کیا ، ان کے سرکاری اور نجی معاملات کی مخبریاں کرنے والے نیٹ ورک کو بچھایا ۔ انہیں زمین پر گرانے کے لیے ہر طرح کے اوچھے وار کئے گئے ۔لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ۔۔۔۔۔۔پروفیسر خالد محمود عراقی کی پرواز ہر مخالف حملے کے بعد اونچی ہوتی گئی ۔ ان کی کامیابیوں میں اضافہ ہوتا گیا وہ کراچی یونیورسٹی کی ترقی بہتری اور معاملات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں کامیاب اور سرفراز ہوئے ان کے مخالفین کے ہاتھ کچھ نہیں آیا ان کا راستہ روکنے ان کی ذات پر کیچڑ اچھالنے اور ان کو بلیک میل کرنے کے لیے مفاد پرست عناصر نے کوئی راستہ نہیں چھوڑا لیکن سب مخالفین ایک ایک کرکے اسی گزھے میں گرتے چلے گئے جو انہوں نے اپنی دانست میں ایکٹنگ وائس چانسلر کے لیے کھودا تھا ۔
الزامات کا پلندہ لے کر کچھ لوگ انصاف کے نام پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے بھی گئے وہ اثر کمیٹی کے مختلف

اراکین کا نام لے کر ان پر خالد عراقی کی مبینہ نوازشات اور کرم فرمائوں کا ذکر بھی کیا جن میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم کے صاحبزادے ڈاکٹر دانش احمد صدیقی کو کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول میں تقرری کے معاملے سے لے کر ڈاکٹر محمد قیصر کی جانب سے پاکستان جرنل آف باٹنی چلانے کے امور تک الزامات کی بارش خالد محمود عراقی پر کی گئی اور یہ موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت سندھ نے غیر قانونی طور پر اور قواعد و ضوابط اور روایات کے برعکس انہیں ایکٹنگ وائس چانسلر مقرر کیا ہے حالانکہ وہ خود وائس چانسلر کے امیدواروں میں شامل تھے اور سچ کمیٹی کے اراکین کو انہوں نے فوائد پہنچائے اور مراعات دی ہیں یہ اور اس طرح کے دیگر نکات اٹھائے گئے ۔
دوسری طرف خالد محمود عراقی جامعہ کراچی میں ایکٹنگ وائس چانسلر کی حیثیت سے اپنے فرائض پوری دیانتداری محنت اور ذمہ داری سے انجام دیتے نظر آئے جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کی ترقی اور کامیابیوں کا سفر جاری ہے