پیرا شوٹ دوسری بار استعمال نہیں ہو سکتا

پاکستان مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما مشاہداللہ خان اور پی ٹی آئی کے نوجوان سینیٹر فیصل جاوید آمنے سامنے آگئے ۔جملوں کا تبادلہ اور شورشرابہ ہوگیا ۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوابازی میں اس وقت بدمزگی پیدا ہوگی جب قائمہ کمیٹی کے چیئرمین مشاہد اللہ خان نے پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید کو بچہ قرار دے دیا اس فقرے پر ہونے والے شور شرابے پر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت سیکھنے کی بجائے شورشرابہ کرتی رہتی ہے پورے ملک میں پی ٹی آئی نے افراتفری پھیلائی ہوئی ہے تحریک انصاف کی حکومت تعمیری کام کرنے کی بجائے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے لیکن میں ایک جمہوری انسان ہوں اور عوام ان کا رویہ دیکھ رہی ہے۔


میرے خیال میں حکومت کو سمجھ نہیں آرہا کہ یہ قائمہ کمیٹی ہے کوئی سیاسی پارٹی نہیں پی ٹی آئی اراکین کو سنجیدہ اور سیاست سیکھنا چاہیے کیونکہ حکومتی پارٹی کو کارکردگی دکھانی پڑتی ہے مشاہداللہ خان کا کہنا تھا کہ پہلے شکر کی کوئی عمر نہیں ہوتی اور پیرا شوٹ دوسری بار استعمال نہیں ہو سکتا ۔مشاہداللہ خان نے حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ آئی ایم ایف کے عہدے دار کو گورنر اسٹیٹ بینک بنا کر پاکستانی معیشت پر سرجیکل اسٹرائیک کی گئی ہے کیونکہ گورنر کا عہدہ احساس ہوتا ہے اور گورنر اسٹیٹ بینک کے پاس بہت ہی حساس ڈیٹا اور معلومات ہوتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں