شہباز شریف کی لائن پٹ گئی نواز شریف کا بیانیہ برقرار

مفاہمت مصالحت اور خاموشی کے حوالے سے شہباز شریف نے جو پالیسی لائن اپنائی تھی وہ کامیاب نہیں ہو سکی نواز شریف اور مریم نواز نے اس پالیسی کو مسترد کردیا ہے اور اب مسلم لیگ نون زیادہ زور و شور کے ساتھ سیاسی میدان میں اپنی موجودگی کا احساس دلائے گی اور حکومت پر دباؤ بڑھائے گی ۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کے انتخابات کے بعد شہباز شریف پارٹی کی پالیسی پر حاوی آگئے تھے نواز شریف اور مریم جیل اور مقدمات کی وجہ سے شہباز شریف کی بات مانتے ہوئے خاموش ہوگئے تھے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے اور شہبازشریف کی لائن ‏پٹ گئی ہے جبکہ نواز شریف کا بیانیہ برقرار ہے نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تھا اور وہ اپنی بات پر قائم ہے ۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شہباز شریف اور نواز شریف کی سیاست میں ایک واضح فرق ہمیشہ سے رہا ہے نواز شریف جس بات پر اسٹینڈ لے لیتے ہیں اس پر ڈٹ جاتے ہیں اور اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے جبکہ شہبازشریف درمیانی راستہ نکالنے مفاہمت اور مصالحت بالخصوص اسٹیبلشمنٹ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔


نواز شریف نے شہباز شریف کی بات مانتے ہوئے ہیں انہیں اپوزیشن لیڈر اور پبلک اکاوٗنٹس کمیٹی کا چیئرمین اور پارلیمانی لیڈر بنایا تھا لیکن اب ایک ایک کرکے آئے سارے عہدے شہبازشریف سے واپس لے کر پارٹی کو زیادہ متحرک اور فعال بنانے کی کوشش کی جارہی ہے خواجہ آصف اور رانا تنویر کو عہدے دینے کے ساتھ ساتھ شاید خاقان عباسی ہو مریم نواز کو پارٹی میں بدعتی سینئر نائب صدر اور نائب صدر کے عہدے دیے کر سیاسی مخالفین کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ نواز شریف کی پالیسی اب کیا ہوگی.
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ واضح اشارے مل رہے ہیں کہ نواز شریف نے پارٹی پالیسی دوبارہ اپنے ہاتھ میں لے لی ہے مریم نواز نہ صرف سوشل میڈیا پر متحرک ہوگئی ہیں بلکہ انہوں نے نواز شریف کے ساتھ جاتی عمرہ سے کوٹ لکھپت کا سفر کا انتخاب کرکے اپنے سیاسی عزائم اور مخالفین کو آنے والے وقت کے فیصلوں سے آگاہ کردیا ہے ۔
بظاہر مسلم لیگ نون اب ایک نئی اننگ کھیلنے جا رہی ہے جس میں سارا دباؤ پی ٹی آئی کی حکومت پر ہوگا قومی اسمبلی کے اندر اور قومی اسمبلی کے باہر مسلم لیگ نون بڑھائے گی ۔


پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی آئی ایم ایف اور مالیاتی اداروں میں اہم تبدیلیوں کے حوالے سے حکومتی فیصلوں پر تنقید کا سلسلہ تیز کردیا ہے اور حکومت کو دباؤ میں لیا جا رہا ہے ۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور مہنگائی کے اثرات تمام شعبہ زندگی پر پڑرہے ہیں عوام مہنگائی کی سونامی سے تنگ آگئے اور سڑکوں پر نکل آئے تو حکومت کے لیے صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا ۔رمضان المبارک کی وجہ سے حکومت کو کچھ وقت ضرور مل گیا ہے کیونکہ لوگ عبادت میں مصروف ہوگئے ہیں رمضان میں اپوزیشن نہ کوئی تحریک چلا سکتی ہے نہ حکومت کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکلیں گے لیکن مہنگائی کابو میں نہ آئیں اور لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا اور حکومت کوئی ریلیف نہ دے سکیں تو پھر عید کے بعد حکومت کے لیے مشکل دور کا آغاز ہو جائے گا ۔
بس سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ نون مسلم لیگ نون پر جتنا پریشر آنا تھا آج کا پریشر ڈالنے والوں کا رخ بدل چکا ہے اور اب حکومت پریشر میں آنے والی ہے حکومت نشانہ بننے والی ہے حکومت کو اپنی کارکردگی میں تیزی کے ساتھ بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں