پاکستان کا بیٹا کم تنخواہ پر کام کرنے پاکستان آ رہا ہے

پی ٹی آئی حکومت نے اسٹیٹ بینک کے نئے گورنر رضا باقر کو پاکستان کا بیٹا قرار دے دیا اور کہا ہے کہ وہ کم تنخواہ پر پاکستان آ رہے ہیں پاکستان کی محبت میں پاکستان کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر رضا باقر نے گورنر اسٹیٹ بینک بننے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔رضا باکرکی بطور گورنر اسٹیٹ بینک تقرری کو اپوزیشن نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور پاکستان بھر میں یہ بحث ہورہی ہے کہ اب آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر تقرریاں کی جارہی ہیں حکومت آئی ایم ایف کے سامنے جھک گئی ہے۔ اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے رضا باقر کو پاکستان کا بیٹا قرار دے دیا اور کہا ہے کہ اپوزیشن حب الوطنی کی ٹھیکیدار نہ بنے رضا بات کر کم تنخواہ پر پاکستان آرہے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کا بیٹا ہے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہمیں تو کہا جاتا ہے کہ حفیظ کی تعیناتی آئی ایم ایف کے کہنے پر کی گئی لیکن کیا پیپلزپارٹی نے بھی حفیظ سے کی تعیناتی آئی ایم ایف کے کہنے پر کی تھی ؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دعوی ہے کہ رضا باقر کا انتخاب بطور گورنر اسٹیٹ بینک میرٹ پر ہوا ہے اور وہ اس انتخاب کے اہل تھے رضا باقر انتہائی کم تنخواہ پر کام کرنے پاکستان آرہے ہیں۔


وزیر خارجہ نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب بھی دیا ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نامزدگی کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی این ایف سی ایوارڈ دینا ہماری آئینی ذمہ داری ہے لیکن صوبائی حکومتوں نے اپنے امیدوار نامزد نہیں کیے آرٹیکل 160 واضح ہے کہ ہر پانچ سال بعد این ایف سی ایوارڈ آنا چاہیے لیکن ایوارڈ ڈار صاحب کی سربراہی میں تشکیل کمیٹی کوئی کام نہ کرسکیں سب سے زیادہ ذمہ دار حکومت سندھ ہے شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم 16 دفعہ آئی ایم ایف کے پاس گئے ہیں ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں گزشتہ حکومت کے باعث جی ڈی پی کا مالی خسارہ 6.6 فیصد ہو جائے تو پھر تشویش ہوتی ہے دوست ملکوں کی امداد کے باوجود ایم ایف کے پاس جانا پڑا جب گذشتہ حکومت کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر 6ہفتے کے رہ جائیں جب جی ڈی پی کا مالی خسارہ 6.6 فیصد ہو جائے تو پھر تشویش ہوتی ہے اداروں کی جانب دیکھا جائے تو سب ہی خسارے میں ہیں پیپلزپارٹی کے دور میں بھی کونسا ادارہ منافع میں رہا ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں