شرجیل میمن کے مبینہ فرنٹ مین نے نیب کے سامنے جائیدادوں کی تفصیل اگل دی

قومی احتساب بیورو نیب محکمہ اطلاعات سندھ کے اربوں روپے کے سرکاری اشتہارات میں کرپشن کے الزامات شرجیل میمن پر اب تک عدالت میں ثابت نہیں کر پایا لیکن اس نے شرجیل میمن کی مزید جائیدادوں کے سراغ لگانے کے حوالے سے نئے دعوے کیے ہیں نیب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شرجیل میمن کے ایک مبینہ فرنٹ مین اظہار نے سابق صوبائی وزیر کے اہم اثاثوں اور جائیداد کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں اور نیب کے سامنے بہت سی تفصیلات جلدی ہے جس کی روشنی میں نیب کو یقین ہے کہ اب وہ گرفتار ملزم سے اپنی تفتیش کو آگے بڑھانے میں مزید تیزی لا سکے گی اور نیا ریفرنس بھی تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔


دوسری طرف سیاسی حلقوں میں شرجیل میمن کے کیس اور ان پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے تبصرے جاری ہیں کہ نیب اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود اپنے الزامات عدالت میں ثابت نہیں کرسکی اور مسلسل شرجیل میمن کا میڈیا ٹرائل کیا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے ماضی میں بھی شرجیل میمن کے حوالے سے جھوٹے الزامات میڈیا پر آئے تھے یہاں تک کہا گیا تھا کہ ان کے گھر سے اربوں روپے برآمد کیے گئے ہیں جب شرجیل میمن نے من گھڑت خبریں چلانے والوں کو نوٹس دیے اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تو پھر ان کے خلاف خبریں چلانے والوں نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔سیاسی مبصرین اس بات پر بھی حیران ہے کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے دور میں شرجیل میمن کے اسپتال میں ہونے والے علاج اور وہاں انہیں میں اس رسول تو کے حوالے سے جو اعتراضات اٹھائے گئے تھے اور شراب کی بوتلوں کی برآمدگی کے حوالے سے جو الزام سامنے آیا تھا آخر وہ سب الزامات ثابت نہیں ہوئے تو پھر الزامات لگانے والوں کے خلاف کیا کوئی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے یا نہیں … بظاہر یہ معاملہ شریف میمن کے قانونی مشیروں اور وکیلوں کا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنے موکل سے مشورہ کرکے کی اعلٰی عمل اختیار کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ بحث اپنی جگہ موجود ہے کہ شرجیل میمن جیسے سیاستدانوں کے خلاف اتنے الزامات اور میڈیا ٹرائل کے باوجود جب کوئی الزام عدالت میں ثابت نہیں ہو پاتا تو الزامات لگانے والوں میڈیا ٹرائل کرنے والوں کے خلاف بھی کوئی کاروائی ہونی چاہیے یا نہیں ۔اگر الزامات سچے ہیں تو پھر سزا ملنی چاہیے مقدمے کا جلسہ فیصلہ ہونا چاہیے۔


اگر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں اور ان کے خلاف مسلسل میڈیا ٹرائل ہوتا ہے تو اس کا سلسلہ روکنا چاہیے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی سندھ اور پنجاب کے حوالے سے نیب کے رویے اور اقدامات پر تنقید کرچکے ہیں۔ سابق وفاقی مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف اربوں روپے کے الزامات اور ان کے میڈیا ٹرائل کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے کہ ان کو بھی کسی مقدمے میں سزا نہیں دلائی جاسکے لیکن ان پر اربوں روپے کی کرپشن اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگے اور میڈیا ٹرائل ہوا اگر ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوتے اور سزا نہیں ہوتی اور وہ بری ہو جاتے ہیں تو اس میڈیاٹرائل الزامات لگانے والوں کے خلاف قانون کیا کرے گا ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں