اقتدار اور درباری پن

سیاسی کیریئر کے دوران پہلے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت کی حامی اور پھر نواز شریف کے دور حکومت میں جمہوریت کی علمبردار بن کر سامنے آنے والی ذہین اور بہادر سیاستدان ماروی میمن کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون سے علیحدگی چوہدری نثار کے لئے نئی آواز ہے چوہدری نثار نے اقتدار اور درباری پن کے مقابلے میں عزت کو ترجیح دی اور اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ۔نواز شریف کے دورے حکومت میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی پاکستان کی متحرک اور فعال سیاستدان ماروی میمن نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ باصلاحیت لوگوں کو پارٹی کی نہیں پارٹی کو ان کی ضرورت ہوتی ہے تاہم 99فیصد درباری یا باتیں سمجھ نہیں سکتے کیونکہ وہ سسٹم کے غلام ہیں۔


پچھلے کچھ عرصے سے مسلم لیگی قیادت سے اپنی ناراضی کا کھل کر اظہار کرنے والی ماروی میمن کا مزید کہنا ہے کہ چھوٹے دماغ والے جعلی دانشور باتوں کے بجائے ان کی فہرست بنائیں جنہیں آگے ہونا چاہئے تھا لیکن وہ بدتمیزی کے ڈر سے پارٹی میں کنارے ہو گئے ۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انہیں مشتعل نہ کریں ۔اس سے پہلے بھی وہ کہہ چکی ہیں کہ مجھے زبان کھولنے پر مجبور نہ کیا جائے ۔سیاسی حلقوں میں ماروی میمن کے حالیہ بیانات کے حوالے سے بحث ہورہی ہے کہ آخر ماروی میمن کے پاس ایسی کون سی معلومات اور راز ہیں جن کو زبان پر لانے سے وہ سمجھتی ہیں کہ مسلم لیگ نون کے لیے مسائل پیدا ہوں گے اگر انہیں مسلم لیگ نون اور اس کی قیادت سے ہمدردیاں ہیں تو وہ ایسی باتیں سوشل میڈیا پر آرہی کیوں رہی ہیں اور اگر انہیں مسلم لیگی قیادت اور کارکنوں نے مایوس کیا ہے تو پھر وہ کس چیز کا انتظار کر رہی ہیں اور جو حقائق ان کے پاس ہیں جو راز وہ جانتی ہیں ان پر سے پردہ ہٹانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیوں کر رہی ہیں ۔کیا وہ کسی ڈیل کا انتظار کر رہی ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں