سال 2050 میں صوبہ سندھ کی آبادی دس کروڑ کے قریب پہنچ جائے گی

پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ کی موجودہ آبادی سرکاری طور پر چار کروڑ ستر لاکھ افراد پر مشتمل ہے ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ آبادی سال 2050 میں نو کروڑ اسی لاکھ افراد سے تجاوز کرتے ہوئے تقریبا دس کروڑ تک پہنچ جائے گی سندھ کا محکمہ بہبود آبادی صوبے میں آبادی میں اضافے کی شرح کو کنٹرول کرنے کے لئے بھرپور اقدامات اٹھا رہا ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ صوبے بھر میں آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ تولیدی صحت کی مصنوعات کی وافر مقدار میں فراہمی اور شادی شدہ جوڑوں کو ان مصنوعات تک باآسانی رسائی فراہم کی جائے سرکاری اور نجی شعبہ ملکر اس سلسلے میں اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے لیکن چیلنج بہت بڑا ہے جسے کرونا وائرس کے سب پیدا ہونے والے حالات نے مزید مشکل بنا دیا ہے ۔
صوبائی حکومت کی جانب سے عالمی اہداف کے حصول کے لیے سی آئی پی کا سٹیڈ امپلیمنٹیشن پلان تیار کیا گیا ہے جس پر تیزی سے عمل ہو رہا ہے اس پلان کی تیاری اور عمل درآمد کا سہرا سندھ حکومت کے ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈاکٹر طالب لاشاری اور ان کی ٹیم کے سر جاتا ہے جو صوبائی وزیر برائے بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور صوبائی سیکریٹری زاہد عباسی کی فراہم کردہ گائیڈ لائن کے مطابق اپنا کام آگے بڑھا رہے ہیں سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے بہبود آبادی کے حوالے سے اقدامات اٹھاتے ہوئے اسمبلی سے قوانین بھی منظور کر آئے ہیں اور بہبود آبادی کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ فنڈز میں بھی اضافہ کروایا ہے سندھ کو ایک بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ پورے ملک سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہر سال سندھ کا رخ کرتی ہے اور یہاں رہائش اختیار کرتی ہے ملک کی دونوں بڑی بندرگاہیں اور تجارتی اور صنعتی مرکز ہونے کی وجہ سے کراچی سب سے بڑا مرکز ہے جہاں آبادی کا دباؤ ہرسال بڑھ رہا ہے کراچی کا شمار اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے بارہ شہر میں ہوتا ہے اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ سال 2030 تک کراچی دنیا میں زیادہ آبادی کے لحاظ سے ساتواں بڑا شہر بن جائے گا ۔
سندھ میں بھی ایک گھرانے میں بچوں کی پیدائش کی تعداد دنیا میں زیادہ ہے سندھ میں اب اس میں کچھ کمی آ رہی ہے نوے کی دہائی میں اس کی اوسط تعداد 5.1 بچے فی عورت تھی پھر یہ تعداد سال 2014 میں کم ہوکر 4 بچوں تک آ گئی ۔سندھ کے شہروں میں یہ ریٹ 3.2 ہے لیکن دیہاتوں میں یہ ریٹ 5.2 تک پہنچا ہوا ہے ۔
آبادی میں زبردست اضافے کے دباؤ کی وجہ سے صوبے میں بنیادی سہولتوں صحت تعلیم اور انفراسٹرکچر کے چیلنج سامنے آ رہے ہیں پانی زراعت اور شہری آبادی میں اضافہ بڑا چیلنج ہے معیشت پر براہ راست باوا رہا ہے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور مسائل زیادہ وسائل کم ہیں اسی طرح ٹرانسپورٹ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔دیہاتوں میں آٹھ فیصد خواتین کے لیے سفر کرنا مشکل ہے اور شہروں میں 78 فیصد خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ ایک چیلنج ہے ۔
صوبائی محکمہ بہبود آبادی اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ سال 2050 تک سی-پی-آر ریٹ ہو 70 فیصد تک بڑھ جائے اگر اس میں کامیابی ہوتی ہے تو پھر سولہ ہزار ڈاکٹروں کی ضرورت کم پڑے گی ۔
سال 2016میں سندھ میں 15 ہزار سے زیادہ ڈاکٹرز اور تین ہزار آٹھ سو سے زیادہ اندر سے موجود تھی جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے اس کو مدنظر رکھا جائے تو سال 2050 تک دس ہزار نرسیں اور پچاس ہزار ڈاکٹر درکار ہوں گے سال 2016 تک سندھ میں گیارہ سو ہیلتھ یونٹس تھے اور پورے صوبے میں ایک سو بائیس بڑے اسپتال تھے آبادی میں اضافہ کی شرح کو سامنے رکھا جائے تو سال 2050 تک صوبے میں تین ہزار چھہ سو سے زیادہ ہیلتھ یونٹس درکار ہوں گے ۔سی آئی پی پلان پر عملدرآمد یقینی بنا لیا جائے تو ماہرین کا اندازہ ہے کہ سندھ صوبہ اس سلسلے میں ایک کھرب روپے محکمہ صحت میں بچا سکتا ہے ورنہ یہ رقم بھی خرچ کرنا پڑے گی اسی طرح مزید چیلنج شعبہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں سر اٹھائے کھڑے ہیں جتنی زیادہ آبادی ہو گی اتنے زیادہ اسکول اتنے زیادہ ٹیچر اتنے زیادہ فنڈز درکار ہوں گے آبادی میں اضافہ پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں مزید 74 لاکھ بچوں کو اسکول میں تعلیم دینی ہوگی مزید تین لاکھ ٹیچرز درکار ہوں گے اور مزید 60 ہزار اسکول بنانے پڑیں گے لیکن آبادی میں اضافہ کی شرح پر قابو پا لیا جائے تو تعلیم کے شعبے میں بھی مزید ایک کھرب روپے کی بچت کی جا سکتی ہے
————–
Report-Salik-Majeed-
e-mail….jeeveypakistan@yahoo.com
———-
whatsapp…….92-300-9253034