پی ٹی آئی سندھ کے رہنماء حلیم عادل شیخ کا سول اسپتال کراچی ایڈز کنٹرول پروگرام وارڈ کا دورہ

حلیم عادل چیخ نے ایڈز کنٹرول پروگرام  وارڈ کے دوران تشویشناک صورتحال کا اظہار کرتےہوئے  کہا کہا کہ  ایک کمرے پر پورا وارڈ مشتمل ہے ، ایڈز کے مریضوں کے علاج کے لئے کوئی الگ وارڈ موجود نہیں ہے،  ایڈز سے متاثرہ بچوں کے لئے قائم کردہ وارڈ بھی بند پڑا ہے ڈاکٹر بھی موجود نہیں . تین ماہ قبل جب ایڈز بڑھ رہا تھا تب سندھ کے شہروں کا دورہ کر کے آگاہ کیا تھا . ایڈز کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اسمبلی میں قرارداد پیش کی تھی . میری بات اسمبلی میں نہیں سنی گئی قرارداد رد کر دی گئی تھی . جواب میں ڈاکٹر یونس نے میرے خلاف پریس کانفرنس کی تھی .


ڈاکٹر یونس چاچڑ نے کہا تھا سندھ میں کوئی ایڈز کا مرض نہیں ہے ، لاڑکانہ،حیدرآباد، میرپورخاص، گھوٹکی سمیت پورے سندھ کو ایڈز زدہ بنا دیا گیا ہے ، ایڈز کے علاج کے لئے سندھ کی کوئی سہولیات نہیں ہیں، پورے سندھ میں ایڈز کے مریضوں کے لئے کراچی میں ٹریٹمنٹ سینٹر ہے ۔ سول اسپتال میں کوئی سہولیات نہیں ہیں، مریضوں کے لئے کوئی الگ وارڈ نہیں بنا ہوا ۔ محلق بیماری سندھ میں بڑھ رہی ہے سندھ کے حکمران بجٹ کھا چکے ہیں، پورے سندھ میں ایڈز وبائی صورتحال اختیار کر چکا ہے ۔ پورے سندھ میں ایڈز کے علاج کے لئے قائم سول اسپتال میں وارڈ میں سہولیات میسر نہیں ہیں ۔ ایڈز کو روکنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے ضرورت ہے۔ سائیکالاجسٹ ڈاکٹر زیبا نے کہا کہہمارے پاس ایک ہی کمرہ ایڈز کی پرائویسی کا ڈیل کرنا مشکل ہے ۔ ہمارے پاس مریضوں کو منتقل کرنے کے لئے جگہ نہیں۔ محکمے کو آگاہ کر دیا ہے سہولیات فراہم کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں