149

ایف بی آر ایک بار پھر تنازعات کی زد میں … تحریر : خورشید علی شیخ

سید شبر زیدی کے بطور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو تعیناتی نے ایک بار پھر ایف بی آر کے افسران میں شدید تحفظات اور تنازعات کو جنم دیا ہے اور ان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے. ایف بی آر کے افسران نے مقتدر حلقوں کو سید شبر زیدی کی بحیثیت چیئرمین تقرری کے فیصلے پر اپنے شدید تحفظات اور غم و غصہ سے آگاہ کیا ہے. ایک پرائیویٹ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم اے ایس فرگیوسن اینڈ کمپنی کے سینئر پارٹنر کو اتنے حساس اور اہم ترین عہدے پر فائز کر دینا یقیناً ایک حساس معاملہ ہے اس طرح جو فرم کل تک حکومتی اور پرائیویٹ سیکٹر کے معاملات کے آڈٹ کے معاملات دیکھتی تھی اب اس کی رسائی ہر حساس معاملات تک نہایت آسان ہو گئی.


   اس طرح ہم شبر زیدی کو سیکیورٹی رسک کا ایک اہم کیس گردان سکتے ہیں. واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد علی حکیم کی بحیثیت چیئرمین ایف بی آر کی تعیناتی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا. ایک اکاؤنٹنسی فرم کے سینئر پارٹنر ہو نے کی حیثیت سے شبر زیدی کی تقرری سینکڑوں سوالات جنم دیتی ہے اور سب سے زیادہ تحفظات ان کے غیر جانبدار اور سب سے بڑی اور پریمئر ریونیو ایجنسی سے ان کیSincerity ہے کیونکہ انکی کمپنی جانے کتنی ایسی کمپنیوں کے ٹیکس ریونیو کیسز کا دفاع کر رہی ہے جو کہ سینکڑوں ارب روپے ٹیکس کی مد میں بچانے کے درپے ہیں جس سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے. سب سے بڑی قابل  اعتراض امر  یہ  ہے  کہ  اس  ادارے میں اس  وقت  10  سے زیادہ  سینئر  موسٹ   افسران  جن  کا  تعلق ان لینڈ 




ریونیو اور پاکستان کسٹم سے ہے اور جن کی قابلیت کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے گریڈ22 میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں جن کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا. اس عمل کو محکمہ میں اس نظر سے دیکھا جارہا ہے  کہ ان دونوں محکموں کے 2000 افسران یا تو اہل نہیں یا اعتماد کے لائق نہیں یا پھر حکومت نے ان پر No Confidence کا اعلان کر دیا ہے. حکومت بار بار ان دونوں محکموں کے مورال کو گرا رہی ہے باہر کے لوگوں کو اس اہم ادارے میں زبردستی تعینات کر کے چاہے ان کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس سے ہو یا چاہے کسی اکاؤنٹنسی کی فرم سے. اگر کسی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے حکومت مستفید ہی ہونا چاہتی ہے تو ایسے شحض کو مشیر بھی تعینات کر سکتی ہے کیونکہ ایسی تقرریوں کو خالصتا سیاسی تعیناتی تصور کیا جاتا ہے. زرائع انکشاف کرتے ہیں کہ ایف بی آر کے افسران میں اس وقت سخت بے چینی پائی جاتی ہے اور انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں اور ان لینڈ ریونیو سروس یا کسٹم میں سے کسی ایک 22 گریڈ کے افسر کو چیئرمین تعینات کیا جائے ورنہ موجودہ احساس محرومی اس وقت کے شارٹ فال کو مزید وسیع کر دیگا کیونکہ موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پہلے ہی حکومت اپنے ریونیو ٹارگٹ پورا کرنے میں بری طرح ناکام ہے اور انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کی تو ان کے پاس عدالت میں اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اختیار موجود ہے. ایف بی آر کے افسران یہ منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں کہ شبر زیدی کے تقرر کو یکسر مسترد کردیا جائے کیونکہ یہ نہ صرف ان کے مفادات سے ٹکراؤ ہے بلکہ یہ ایک غیر شفاف اور Due Process سے ہٹ کر تعیناتی ہے. یہ کہنے میں قطعی عار نہیں کہ موجودہ حکومت نے پچھلے چیئرمین کی پھیلائی ہوئی تباہی سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا جس کے مضمرات ابھی تک ہماری معیشت کو سنبھلنے کا موقع نہیں دے رہے. ہمیں نہیں پتہ کہ ملک کو کس کی کالونی بنایا جا رہا ہے یا اگر معلوم بھی ہو تو چشم پوشی کی جارہی ہے مگر اس کا تو یقین ہے کہ موجودہ حکومت اپنی اس غیر سنجیدہ اور غیر پیشہ ورانہ روپے سے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے جس کا نتیجہ کسی بھی طور اچھا نہیں. ملک میں حکومت کی بچکانہ پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہو چکا ہے اور اگر اگر مزید ایسے احمقانہ فیصلے کئے گئے تو ملک خانہ جنگی کا شکار بھی ہو سکتا ہے جس سے ملک دشمن عناصر بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ملک کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہونگے. ختم شد.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں