یہ وقت بھی گزر جائے گا

سابق وزیراعظم نواز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ آزمائش پر پورا اتریں گے ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا۔
ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ جیل جانے سے پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر یہ کہا ہے کہ ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر قائم ہوں اور میرے حوصلے بلند ہیں اور میں مشکلات سے گھبرانے والا نہیں مشکل وقت گزر جائے گا۔
پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد اور پاکستان کے تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے مقبول سیاستدان نواز شریف نے ان خیالات کا اظہار آصف کرمانی سے جاتی عمرہ میں ملاقات کے دوران کیا انہوں نے سیاسی امور پر مشاورت اور تبادلہ خیال کرتے ہوئے یہ کہا آپ کے آج بھی ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر قائم ہوں مشکلات اور آزمائشوں سے گھبرانے والا نہیں ہوں ۔میرے حوصلے بلند ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔


یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پہلی مرتبہ 1993 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلیاں توڑ کر اقتدار سے محروم کرنے کی کوشش کی تھی بعد ازاں سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت کو بحال کردیا تھا اس کے کچھ عرصے بعد آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے وزیراعظم نوازشریف اور صدر غلام اسحاق خان دونوں کو مستعفی ہونے پر راضی کرلیا تھا اور ملک میں نئے انتخابات کروانے کے لیے نگران حکومت قائم کی گئی تھی جس کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم بنیں تھیں۔
نوازشریف انیس سو ستانوے میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ دوسری مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں فوجی انقلاب نے نواز شریف کو اقتدار سے محروم کرکے جیل کی کال کوٹھری میں بند کر دیا تھا۔
2013 میں نواز شریف تیسری مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور جولائی 2017 کو انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا ۔جون 2018 سے وہ قیدوبند کی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں