ایف بی آر کے نئے چیئرمین شبر زیدی کا انتخاب کیسے عمل میں آیا ان کی اہلیت کیا ہے؟

ایف بی آر کے نئے چیئرمین شبر زیدی کے کیرئیر کا بیشتر حصہ نجی شعبے اور بڑے کاروباری اداروں کے ساتھ کام کرنے میں گزرا ہے لہذا یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اب وہ سرکاری ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے عام آدمی کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ٹیکس سے متعلق مناسب پالیسی مرتب کر سکیں گے؟
یہ بات تو طے ہے کہ شبر زیدی کو اس لیے لایا گیا ہے کہ ایف بی آر موجودہ حکومت کے لئے درد سر بن چکا ہے اور اپنے طے شدہ اہداف کے حصول میں بری طرح ناکام رہا ہے اسی لئے معیشت سخت دباؤ کا شکار ہے اور ٹیکس جمع کرنے کے اہداف اور وزیراعظم عمران خان کی توقعات پوری نہیں ہورہی ۔
لیکن کیا شبر زیدی وزیراعظم عمران خان کی توقعات پر پورا اتر سکیں گے ۔شبر زیدی کے پاس ایسا کون سا الہ دین کا چراغ ہے جو رگڑتے ہیں سارے اہداف حاصل ہو جائیں گے یا وہ اپنے ساتھ کوئی جادو کی چھڑی لے کر آئیں گے جس کو ہلاتے ہی سارے مسائل حل ہو جائیں گے ؟
سوال کیا جا رہا ہے کہ اچانک سید شبر زیدی کا نام کہاں سے آیا اور ان کا انتخاب کیسے ہوا ؟


سیاسی حلقوں میں یہ اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ آخری وقت تک مجتبہ میمن کا نام بطور چیئرمین ایف بی آر رکھا گیا تھا لیکن ان کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات اور کچھ الزامات اور تحفظات سامنے آنے کی وجہ سے انھیں ڈراپ کرنا پڑا ۔
شبر زیدی کا شمار پاکستان کے ذہین اور قابل چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس میں ہوتا ہے وہ ٹیکس کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور متعدد فورمز پر بہت مفید اور قابل عمل تجاویز پیش کرچکے ہیں وہ مختلف ٹی وی چینلز پر اور میڈیا پر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرتے رہے ہیں اس کے علاوہ ایف پی سی سی آئی میں ان کو بطور خاص مدعو کرکے ان سے پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنجوں مشکلات مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے تجاویز اور ان کی رائے مانگی گئی تھی پاکستان کے معاشی ماہرین نے شبر زیدی کی تعیناتی کو ایک اچھا فیصلہ قرار دیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ پاکستانی معاشرت بالخصوص ایف بی آر کو درپیش مشکلات کا حل نکالنے میں حکومت کی مدد کرسکتے ہیں ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب شبر زیدی کو فری ہینڈ ملے اگر شبر زیدی جیسے ذہین اور قابل چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کو رکھا گیا تو پھر وہ کچھ نہیں کر سکیں گے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو اپنے فیصلے خود کرنے دیئے جائیں اور ان کو اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ بہتر نتائج فراہم کرنے کے لیے آزادانہ طور پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچھے فیصلے کر سکیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں