اتنی جلدی اداروں کو ٹھیک نہیں کر سکتا

جب سے وزیر خزانہ اسد عمر کو تبدیل کیا گیا ہے یہ بات پی ٹی آئی کے اپنے ہاں میں بھی ماننے لگے ہیں کے حکومت چلانا اور معاملات کو ٹھیک کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے جتنا اپوزیشن کے دنوں میں سوچا گیا تھا۔اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خود وزیراعظم عمران خان نے کہہ دیا ہے کہ ان کے لیے یہ سال مشکل تھا اور کوئی بھی اتنی جلدی اداروں کو ٹھیک نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق دیوالیہ ہوگیا ہے جبکہ صوبے اس ترمیم کے تحت ملنے والے اختیارات کے مطابق ٹیکس اکٹھا کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔18ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے ٹیکس کی مد میں جو رقم اکٹھا کرنی تھی وہ نہیں ہوسکی وفاق صوبوں کو رقم دیتا ہے اور خود دیوالیہ ہو جاتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی صوبوں کے ٹیکس جمع کرنے میں ناکامی کی بات مکمل طور پر حقائق کی عکاسی نہیں کرتیں کیونکہ اٹھارویں ترمیم سے پہلے حکومت سندھ کو وفاق جو پیسے ٹیکس کی مد میں اکٹھے کرکے دیتا تھا وہ ایک ارب روپے سے بھی کم تھے اور آج حکومت سندھ اپنے طور پر سو ارب روپے کے لگ بھگ ٹیکس سندھ ریونیو بورڈ کے ذریعے جمع کررہی ہے۔


یہ بات قابل ذکر ہے کہ سینئر صحافیوں اور اینکرپرسنز کے ساتھ ملاقات کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کے ساتھ جہانگیر ترین بھی موجود تھے جب کہ دو صوبوں پنجاب اور خیبر پی کے کے وزیر اعلیٰ بھی اس موقع پر موجود تھے وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب میں انقلابی بلدیاتی نظام لا رہے ہیں جس کے ذریعے نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی نئے بلدیاتی نظام کے تحت پنجاب میں پنچایت کے براہ راست الیکشن ہوں گے شہروں میں میئر کا الیکشن براہ راست کرائیں گے جبکہ 22,000 پنچایتوں کو 40 ارب کے فنڈز دیں گے ۔وزیراعظم کا ماننا ہے کہ نیا بلدیاتی نظام پوری دنیا کے نظام کا مطالعہ کرنے کے بعد بنایا گیا ہے اگر شہر یا تحصیل اپنا ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکتے تو بلدیاتی نظام چل ہی نہیں سکتا صدارتی نظام کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر وزیراعظم عمران خان نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے سمجھ نہیں آتی صدارتی نظام کدھر سے آ رہا ہے ہماری طرف سے تو نہیں آرہا ہمیں تو پتہ ہی نہیں کہ ساری جگہوں پر یہ بات کون کر رہا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں