اس طرح نظام نہیں چلے گا…!

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری نے آئی ایم ایف کے لوگوں کو اسٹیٹ بینک اور دیگر عہدوں پر لاکر بٹھانے پر سخت تنقید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مالیاتی ادارے کے لوگ اس طرح آکر اسٹیٹ بینک میں بیٹھے ہونگے تو کیا ہم ملک چلا سکیں گے ؟اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے آئی ایم ایف کا آفس پاکستان شفٹ ہو رہا ہے ۔سابق صدر آصف علی زرداری نے اس سوال پر کے گورنر اسٹیٹ بینک کے تقرور کے معاملے پر آپ کیا کہیں گے جواب دیا کہ آئی ایم ایف کا آفس تو اب لگتا ہے پاکستان منتقل ہو رہا ہے اگر ایم ایف کے لوگ اس طرح آکر اسٹیٹ بینک میں بیٹھے ہونگے تو کیا ہم مل چلاسکیں گے پی اے سی کے چیئرمین کی تبدیلی آپ سے مشاورت سے کی گئی اس سوال پر آصف زرداری کا کہنا تھا مجھ سے مشاورت کیوں کریں گے ہاں خوشی شہ سے ضرور کی ہوگی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ رانا تنویر کی حمایت کریں گے تو ان کا جواب تھا رانا تنویر بندہ تو اچھا ہے لیکن دیکھتے ہیں پی اے سی کی چیئرمین شپ پر مشاورت کریں گے ۔


دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ چیئرمین ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کی اچانک تبدیلیاں ایک سنگین مسئلہ ہے حکومت میں قائدانہ صلاحیت نہیں کیا اب آئی ایم ایف فیصلہ کرے گا کہ وزیر خزانہ چیئرمین ایف بی آر گورنر سٹیٹ بینک کون لوگ ہونگے اس طرح کا نظام نہیں چلے گا موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی ہر بات مان رہی ہے معاشی خود مختاری پر سمجھوتا کیا جارہا ہے ماضی میں جب پیپلز پارٹی کو حکومت ملی تو پرویز مشرف خزانہ خالی کر کے گئے تھے ہم نے آئی ایم ایف کی مرضی کے خلاف نوکریاں دینے سمیت بہت سے اقدامات کیے موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے سر جھکا چکی ہے ہر بات مان رہی ہے گورنر اسٹیٹ بینک کی مدت ملازمت تین سال ہوتی ہے جس طرح زبردستی ہٹا یا گیا ہے اس طرح گورنر اسٹیٹ بینک کو زبردستی ہٹایا نہیں جاسکتا آئی ایم ایف کے ملازم کو ون اسٹیٹمنٹ بنانے کی قانون میں گنجائش نہیں ہے انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ بتایا جائے کس قانون کے تحت اسٹیٹ بینک کا نیا گورنر تعینات کیا گیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں