اسد عمر کو ہٹانے کے لیے رضا باقر کو استعمال کیا گیا

رومانیہ میں آئی ایم ایف کے لیے خدمات انجام دینے والے رضا باقرکی گورنرسٹیٹ بینک کے عہدے پر تعیناتی کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ کپتان کے سب سے لاڈلے وزیر اسد عمر کو فارغ کرنے کے لیے دراصل رضا باقر کو ہی استعمال کیا گیا ۔آئی ایم ایف کی جانب سے کپتان تک پیغام پہنچایا گیا کہ آئی ایم ایف اسد عمر سے بالکل خوش نہیں ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ اسد عمر کو معیشت کی مشکلات کے حوالے سے زمینی حقائق کا کچھ پتہ نہیں ہے ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے بھی دعوی کردیا ہے کہ اسد عمر کو آئی ایم ایف کے کہنے پر وزارت خزانہ سے ہٹایا گیا ہے اور انہیں خبر ملی ہے کہ اسد عمر کو ہٹانے کے لیے رضا باقر کو استعمال کیا گیا کیونکہ آئی ایم ایف اسد عمر سے خوش نہیں تھی۔


پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما ؤں کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن لینے کے حوالے سے حکومت پر سخت تنقید کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور اپوزیشن کے رہنما دعوی کر رہے ہیں کہ حکومت اب آئی ایم ایف کے کنٹرول میں ہیں اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر افسران کو ہٹایا اور لگایا جارہا ہے پہلے وزیر خزانہ کو ہٹایا گیا اب گورنر سٹیٹ بینک اور پھر ایف بی آر میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں یہ سب کچھ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اور آئی ایم ایف کی منشا کے عین مطابق ہو رہا ہے اگر یہ سب کچھ سوفیصد درست ہے یہ پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کیلئے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے اسد عمر کے بھائی محمد زبیر تو پہلے دن سے یہ کہہ رہے تھے کہ اسد عمر نے وہ شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے جن شرائط پر آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بات ہورہی ہے گویا اسد عمر کو شرائط نہ ماننے کی سزا ملی۔اب سید خورشید شاہ نے بھی محمد زبیر کی بات کی تائید کردی ہے اور ان کا یہ کہنا ہے کہ اسد عمر کو آئی ایم ایف کی لگائی جانے والی سخت شرائط کو تسلیم نہ کرنے پر فارغ کیا گیا ۔


سیاسی مبصرین کے مطابق اس بات کا دوسرا مطلب بالکل صاف اور سیدھا ہے کہ کپتان نے اسد عمر سے لے کر گورنر اسٹیٹ بینک کی تبدیلی کے معاملے تک آئی ایم ایف سے ڈکٹیشن لی ہے اور جیسا ای ایم ایف کے پیغامات بھیجے ان پیغامات پر من و عن عمل کرنے کے لیے کپتان تیار ہوگئے ۔اپوزیشن کے دنوں میں عمران خان بارہا کہتے رہے کہ آپ کا لیڈر کسی کے سامنے جھکے گا نہیں اسی سے ڈکٹیشن نہیں لے گا اور قرض لینے کے لیے اگر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو خودکشی کر لے گا ۔لیکن آج کے حقائق بتا رہے ہیں کہ وہ باتیں صرف اپوزیشن کے دنوں کی تھی آج آپ کا کپتان ڈکٹیشن بھی لے رہا ہے جو کبھی رہا ہے اور آئی ایم ایف سے قرض لے کر خودکشی بھی نہیں کر رہا بلکہ پوری قوم اور پورے ملک کو خودکشی کی طرف لے جا رہا ہے۔ دوسری طرف کپتان کے حامی اور پی ٹی آئی کے وزراء اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حوصلہ رکھیں اور کپتان کے فیصلوں کے نتائج سامنے آنے کے لیے وقت دیں ایسے کاموں میں وقت لگتا ہے ۔کپتان جو فیصلہ کرتا ہے سوچ سمجھ کر کرتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں