کیا ماروی میمن کو عظیم لیڈر بننے کا نسخہ ہاتھ لگ گیا ؟

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وجہ سے مسلم لیگی قیادت سے ناراض بتائی جانے والی مسلم لیگ ن کی رہنما ماروی میمن نے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی برطرفی کو بارش کا پہلا قطرہ قراردے دیا ہے اور کہتی ہیں کہ اگر ایسے اقدامات ہوتے رہے تو اچھی حکومت کا آغاز ہو سکتا ہے کبھی جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت کی تعریفیں کرنے والی ماروی میمن مسلم لیگ نون کے دور میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن کے مزے لوٹنے کے بعد آجکل پی ٹی آئی کی حکومت کے فیصلوں کی اچھائیاں اور مثبت اثرات تلاش کر رہی ہیں گورنر سٹیٹ بینک کی تبدیلی کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ طارق باجوہ کو تو 8 مہینے پہلے ہی ہٹا دینا چاہیے تھا نہ ہٹانا حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہے ماروی میمن سمجھتی ہیں کہ تمام وزارتوں میں ایسے ہی اقدامات کئے جانے چاہئے اور اگر عمران خان نے مزید ایسے اقدامات کر لئے تو گڈگورننس آنے کا امکان ہے ۔


طویل عرصے تک مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے لوگ میری باری تمہاری باری کے نام پر حکومت کرتے رہے ہیں اب حکومت نے طارق باجوہ کو ہٹا کر بہت اچھا فیصلہ کیا ہے اب شاید معلومات لندن جانا بند ہو جائیں سیاسی مبصرین کے مطابق ماروی میمن کا اشارہ طارق باجوہ کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ خصوصی تعلقات کی طرف ہے ان کے مطابق کچھ عرصے سے اسحاق ڈار نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے جتنی بھی کامیاب پیش ہو یا کی وہ طارق باجوہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہی کی گئی تھی ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ماروی میمن جس طرح مسلم لیگی قیادت سے اپنی ناراضگی کا کھل کر سوشل میڈیا پر اظہار کررہی ہیں اور اب انہوں نے پی ٹی آئی کی حکومت کے فیصلوں کی تعریف کرنا بھی شروع کردی ہے عین ممکن ہے کہ وہ جلد پی ٹی آئی میں شمولیت کے بارے میں غور غور کررہی ہو یا ان کے پاس کوئی سنجیدہ پیشکش موجود ہو اور اگر ایسا نہیں ہے تو وہ اس قسم کے بیانات دے کر پی ٹی آئی کی قیادت کی توجہ ضرور حاصل کرنا چاہ رہی ہیں ۔


ساتھ ہی ساتھ کو مسلم لیگی قیادت پر بھی دباؤ بڑھا رہی ہیں تاکہ ان کو مزید بہت کچھ بولنے سے روکنے کے لیے کوئی رابطہ کریں غالبا وہ چاہتی ہیں کہ لندن سے کوئی ان سے رابطہ کریں ۔گزشتہ برس یہ اطلاعات گردش کرتی رہی تھی کہ ماروی میمن اور اسحاق ڈار کی سوچ کہیں معاملات میں ایک پیج پر آ گئی تھی لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ ماروی میمن آج تک اسحاق ڈار کی وجہ سے مسلم لیگی قیادت سے سخت ناراض اور نالاں ہیں ۔سوشل میڈیا پر تو بہت کچھ کہا اور لکھا گیا تھا لیکن جو خبر دی گئی تھی اس کی ماروی میمن نے سختی سے تردید کر دی تھی عباس اقدار اور ماروی میمن ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ اصل حقائق کیا ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں