ہر کسی کو چور اور ڈاکو کہنے سے کام نہیں چلتا

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جو لوگ آج مہنگائی مہنگائی کر رہے ہیں ان سے اکتوبر میں پوچھوں گا اس قدر مہنگائی آئے گی کہ قوم چیخ اٹھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں بہت عرصے سے سمجھا رہا تھا بتا رہا تھا کہ معیشت سمیت دیگر حوالوں سے پاکستان کو قابو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے پاکستان کی گرفت کی جارہی ہے ان حالات میں ہر ایک کو چور اور ڈاکو کہنے سے کام نہیں چلتا ۔آج کل پاکستان کی سیاست مصرکی منڈی کا منظر پیش کر رہی ہے میں یہ تو نہیں جانتا کہ شاید خاقان عباسی نے میرے لیے پارٹی میں آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے یا نہیں لیکن یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ اس وقت میں مسلم لیگ نون کا حصہ نہیں ہوں ۔


ٹیکسلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ میں نے ساری عمر صرف عزت کے لیے سیاست کی ہے میں منافقت نہیں کر سکتا اس لیے صوبائی اسمبلی کا حلف نہیں اٹھا رہا حلف اٹھانا منافقت ہوگی ۔ان کا کہنا تھا کہ میں تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ موجودہ حکومت بلدیاتی اداروں کو کام نہیں کرنے دے گی لیکن بلدیاتی اداروں کو اس طرح تو گھر نہیں بھیجا جا سکتا میرا خیال ہے اس معاملے پر عدالتی جنگ لڑی جائے گی۔
آئے میں اس کی ڈکٹیشن کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمارے زمانے میں بھی بہت سا دباؤ تھا لیکن ہم نے ہدایات نہیں مانی تھی جبکہ تحریک انصاف تو قرضہ حاصل کرنے کی دوڑ میں سب سے آگے نکل گئی ہے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ چھے سات ارب روپے سے یہ لوگ کتنا اسلحہ اکانومی کو سنبھال سکتے ہیں آئی ایم ایف خود مختار ادارہ نہیں ہے ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف سیاسی ادارے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں