قدرت بھی کس کس طرح بدلہ چکاتی ہے

پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز شریف پارٹی میں نائب صدر بننے کے فورا ًبعد ہی سوشل میڈیا پر متحرک ہوگئی ہیں اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سیانے کہتے ہیں نقل کے لیے بھی عقل چاہیے ۔ سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پرچی کا طعنہ دینے والا نہ اپنا حلف پڑھ سکا تھا نہ لکھی ہوئی پرچی پڑھ سکتا ہے، پرچی سے پڑھے تو تماشا بنتا ہے پرچی کے بغیر بولے تو اور بھی بڑا تماشہ بنتا ہے قدرت بھی کس کس طرح بدلے چکآتی ہے ۔ سیاسی حلقوں میں یہ تبصرے ہورہے ہیں کہ مریم نواز پارٹی میں نائب صدر بننے کے بعد پارٹی کے معاملات میں زیادہ فعال متحرک اور مؤثر کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہی ہیں ایک طرف شہباز شریف نے اہم عہدے خالی کردیئے ہیں جن پر نئی تقرریاں سامنے آئی ہیں دوسری طرف مریم پارٹی کے امور کو براہ راست اپنی نگرانی میں لینے کے لیے پر تول رہی ہیں ظاہر ہے ایسا اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب سابق وزیراعظم نواز شریف کی مرضی اور منظوری حاصل ہو ۔یہ تاثر عام ہے کہ نواز شریف خود خاموش رہیں گے اور جب تک عدالتی معاملات اور مقدمے بازی کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ جاتی اس وقت تک وہ لب کشائی سے گریز کریں گے اس دوران ممکن ہے کہ سارا سیاسی شو مریم نواز شریف کے ذریعے چلایا جائے مریم نواز پہلے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے والد کا پیغام کارکنوں تک پہنچاتی تھی اور آئندہ بھی یہ معاملہ ان کے ہاتھ میں ہی رہتا ہوا نظر آرہا ہے۔


مریم نواز سوشل میڈیا پر ناصرف متحرک ہیں بلکہ ان کے فالوورز کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ۔سوشل میڈیا پر پیغامات کارکنوں تک پہنچانے کے لیے اور عوام کو شعور اور آگاہی دینے کے لیے ان کی ٹائمنگ بہت اہمیت کی حامل ہے ۔معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مہنگائی میں زبردست اضافے کی وجہ سے عمران خان کی حکومت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے ان حالات میں اگر مریم نواز نے سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت پر تنقید کا نیا سلسلہ تیز کردیا تو حکومت کی پہلے سے موجود مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ایک طرف بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء کے ناک میں دم کر رکھا ہے وہ وفاقی وزراء کے قلمدان تنظیموں کے ساتھ روابط اور ان سے استعفی لینے کیلئے دباؤ بڑھا رہے ہیں تو دوسری طرف مریم نواز نے بھی عمران خان کی تقریر و بیانات اور ان کی کارکردگی پر تنقید کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ان حالات میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف نے ایک ساتھ حکومت پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا تو حکومت کے لیے دفاع کرنا مشکل ہوجائے گا ۔وزیراعظم کی میڈیا ٹیم کو بالخصوص سوشل میڈیا ٹیم کو زیادہ متحرک اور زیادہ چوکنا رہنا پڑے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں