سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری و نجی جامعات کے طلباء کو 40 ملین روپے اسکالرشپ دی ، وزیراعلیٰ سندھ


کراچی (8 اپریل): وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سرکاری و نجی شعبے کی جامعات کے طلبا کو 40 ملین روپے کے وظائف دیئے جائیں گے۔ یہ اسکالرشپ رواں مالی سال کے دوران سرکاری شعبہ کی جامعات کے بی ایس / ایم ایس / ایم فل / پی ایچ ڈی کے طلباء اور نجی شعبے کی جامعات کے ایم ایس / ایم فل / پی ایچ ڈی کے طلباء کیلئے میرٹ اورضرورت کی بنیاد پر دیئے جائیں گے۔یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وائس چانسلر پبلک یونیورسٹیز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں سینئر ایڈوائزر برائے یونیورسٹیزاینڈ بورڈ نثار کھوڑو ، وزیر بلدیات ناصر شاہ ، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عاصم ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو ، پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز اور دیگر متعلقہ عام تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے پانچ جامعات کو دیہی علاقوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی لیب قائم کرنے کیلئے 25 ملین روپے کے چیک تقسیم کیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی سفارش پر دیہی علاقوں کی پانچ پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں آئی ٹی لیبز کے قیام کیلئے ہر ایک کو 5 ملین روپے کی شرح سے 25 ملین روپے تقسیم کیے، ان جامعات میں شیخ ایاز یونیورسٹی شکار پور ، بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر ، بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ اسکل ڈویلپمنٹ خیرپور ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد اور بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کراچی شامل ہیں۔مراد علی شاہ نے 26 تحقیقی منصوبوں کیلئے یونیورسٹیز کے فیکلٹی ارکان کو 45.7 ملین روپے بھی تقسیم کئے جن میں جامعہ سندھ جامشورو، جامعہ کراچی ، این ای ڈی یونیورسٹی کراچی،مہران یونیورسٹی جامشورو ، ڈاؤ یونیورسٹی ، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو، شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور، آئی بی اے یونیورسٹی سکھر ، بیگم نصرت بھٹو یونیورسٹی سکھر، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یونیورسٹی میں اسمارٹ کلاسز کی تعلیم کااجدید تصور پایا جاتا ہے اس طرح کےماحول میں ای لرننگ اور آن لائن تعلیم کی ضرورت ہے۔یونیورسٹیوں میں اسمارٹ کلاس رومز کا قیام خواب نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عاصم نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سندھ کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں اسمارٹ کلاس رومز کے قیام کیلئے فنڈز فراہم کرنے کے پروگرام کا آغاز کیا ہے اور پہلے مرحلے میں کمیشن نے سات نئی قائم شدہ / پسماندہ یونیورسٹیوں کو فنڈ دینے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مندرجہ ذیل یونیورسٹیز کو ہر ایک کیلئےتین ملین روپے کے حساب سے 21 ملین روپے کے چیک تقسیم کیے: شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور ، بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر ، بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ اسکل ڈویلپمنٹ خیرپور ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباداور شہید اللہ بخش سومرو آرٹس اینڈ ڈیزائن یونیورسٹی جامشورو شامل ہیں تاکہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی خاکے میں تدریس و تحقیق کے کلچر کو پرواں چڑھانے اور فروغ دینے کیلئے سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے انعقاد کیلئے سرکاری شعبہ کی یونیورسٹیز کو ہینڈ ہولڈنگ معاونت فراہم کر رہا ہے۔ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو پبلک سیکٹر کی مختلف یونیورسٹیوں سے 9تجاویز دی گئیں۔نظرثانی کمیٹی کی سفارش پر 8.8 ملین روپے کی مندرجہ ذیل یونیورسٹیز کی تجاویز کو منظور کیا گیا ہے جن میں سندھ یونیورسٹی جامشورو ، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی اور بیگم نصرت بھٹو یونیورسٹی برائے خواتین سکھر ،بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز سکرنڈ اور یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنس بھٹ شاہ شامل ہیں۔ باقی یونیورسٹیوں کی تجاویز کو جلد ہی جامعات کیلئے حتمی شکل دی جائے گی۔ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا سرکاری و نجی شعبے جامعات کے طلباء کو اسکالرشپ دینے کا منصوبہ ہےجس کیلئے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے۔ سرکاری شعبہ کی یونیورسٹیز کے بی ایس / ایم ایس / ایم فل / پی ایچ ڈی کے طلباء اور نجی شعبے کی جامعات کے ایم ایس / ایم فل / پی ایچ ڈی کے طلباء کیلئے 40 ملین روپے کی اسکالرشپ کو میرٹ اورضرورت کی بنیاد پر دی جائے گی۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ