کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالب

حضرت جوش اپنی زندگی کے آخری سات آٹھ برس تک لگاتار یہ کہتے رہے کہ کوئی معقول پبلشر درکار ہے جو میرے کلام کو شایع کردے مقام حیرت کہ کراچی تا خیبر کوئی چاہنے والے نے پیش قدمی نہیں کی اور جوں ہی 22 فروری 1982 کو بابا کا انتقال ہوا ،، جوش کا ،کلام ،، جوش کے خطوط ،، جوش کی نادر و نایاب تحریریں ،، مقالات جوش ،، اور نہ جانے کیا کچھ چھپتا چلاگیا میرا ان تمام لوگوں سے ایک یہی سوال ہے کہ جب تک جوش صاحب کتابوں کی اشاعت کے لئے بے چین اور بے تاب تھے تب تک یہ ادارے اور یہ تمام لوگ کہاں غایب تھے؟ شاید جوش صاحب کے مرنے کے منتظر تھے ان سب کو معلوم تھا جوش حکومت کے معتوب ہو چکے ہیں اس وقت کوئی کتاب نہیں بکے گی اور یہ لوگ بھی جوش کے خیر خواہ بنیں گے تو جوش دشمن لوگوں کی نظر میں آجائیں گے اور اپنی اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اسلئے سب چپ تھے جوش اپنے چاہنے والوں کو یاد کر کر کے تڑپتے تھے مگر جیسے ہی با با کا انتقال ہوا اور اخبارات میں جوش صاحب کے لئے نرم رویہ دکھائی دیا سب مفاد پرست اپنے اپنے بلوں میں سے نکل آئے اور کتابیں چھاپہ خانوں میں دھڑا دھڑ چھپنے لگیں، ادھر دوسری جانب اہل خانہ جوش کے پاس پبلشرز بھی آئے اور جوش کے کلام کی اشاعت کے بارے میں بات چیت کا سلسلہ بھی ہوا یہ حضرات رائلٹی کے بارے میں انتہائی بخیلی سے بات کرتے تھے اور ایک وقت وہ آیا کہ یہ پروپگنڈا شروع کر دیا گیا کہ جوش صاحب کے بیٹے اور پوتے پوتیوں کی ڈیمانڈ بہت ذیادہ ہے اور یہ لوگ بھاری رقم مانگتے ہیں سو بات نہیں بن پاتی تھی مگر اس دوران سن 1991 میں، میں نے جنگ پبلیکیشنز سے ایک معاہدہ کرلیا 15 فیصد رائلٹی پر ، اور پھر انکے انتقال کے بعد پہلا غیر مطبوعہ مجموعہ ء کلام محراب و مضراب 1993 میں چھپ کر آیا اور 8 اپریل 1993 میں اسکی تقریب رونمائی اسلام آباد ہوٹل میں کی گئی بعد ازاں جنگ والوں نے یہ کتابی سلسلہ روک دیا اور مجھے دوسرا مناسب پبلشر نہیں ملا آج میں پہلی مرتبہ لب کشائی کر رہی ہوں اور جو کچھ کہ رہی ہوں یہ سو فیصد درست بات ہے اگر مجھے اتنا کھرا سچ کہنے پر کوئی جھٹلائے گا تو میں اسکا فیصلہ خدا پر چھوڑ دوں گی ملاحظہ کیجئے یہ سن 2014 کی بات ہے، میں اپنے والد مرحوم کے مکان کی فروخت کے لئے کراچی گئی تو موقع غنیمت جان کر میں نے ویلکم بک پورٹ جانے کا قصد کیا تاکہ میں قمر زیدی صاحب سے مل کر تمام بات چیت کرکے معاہدہ کرکے جوش صاحب کا غیر مطبوعہ کلام انکے سپرد کردوں نیز کلیات جوش اور مطبوعہ کتب کی دوبارہ اشاعت پر بھی بات کر لوں مجھے اس دوران خیال آیا کہ میں اکیلی جاؤں گی اور معاہدہ کر لوں گی یا معاہدہ نہیں ہوپایا تو افواہوں کا بازار دوبارہ گرم ہوجائے گا اسلئے میں نے عقیل عباس جعفری صاحب سے درخواست کی کہ آپ ڈاکٹر ہلال نقوی صاحب کو لے کر ویلکم بک پورٹ کے دفتر میں طے شدہ تاریخ اور دن پر آجائیں تاکہ ساری بات چیت دو گواہوں کی موجودگی میں ہوجائے ہم سب وہاں پہنچے اور قمر زیدی صاحب کے سامنے اپنے والد مرحوم اور بہن بھائیوں کی طرف سے دئے گئے دونوں مختار نامے رکھ کر کہا کہ میں آج ہر قیمت پر معاہدہ کرکے جاؤں گی قمر زیدی صاحب نے جوش کے غیر مطبوعہ مجموعہ ء کلام، ،محمل و جرس ،، کی بابت رائلٹی 15 فیصد طے کی میں نے ہامی بھر لی مزید کتب اور کلیات کے بارے میں بھی بات ہو گئی قمر زیدی صاحب نے کہا محمل و جرس کی 50 فیصد رائلٹی اشاعت سے پہلے دی جائے گی اور 50 فیصد اشاعت کے بعد میں نے پھر ہامی بھر لی اس دوران قمر زیدی صاحب نماز کے لئے دوسرے کمرے میں گئے تو ڈاکٹر ہلال نقوی نے مجھ سے کہا کہ آپ ذرا باہر بر آمدے تک آئیں آپ سے کچھ کہنا ہے میں باہر آئی تو مجھ سے ہلال صاحب نے کہا کہ آپ جلد بازی نہ کریں اسلام آباد جاکر ایک مہینہ تسلی سے سوچیں پھر معاہدہ کریں جسکے جواب میں میں نے ان سے کہا کہ آج میں کسی بھی شرط پر معاہدہ کرکے جانا چاہتی ہوں گھر چلی جاؤں گی تو دوبارہ اس طرح فیصلہ نہیں کر پاؤں گی، میرے اپنے گھر میں بے شمار مسائل ہیں جن سے باہر آنا مشکل ہوگا مگر مجھے معلوم نہیں وہ کیوں روکتے رہے میں عورت ذات تھی اور ہلال نقوی بہرحال ایک انتہائی تیز دماغ کے آدمی ، مجھے قائل کرکے وہاں سے یہ کہ کر اٹھا لائے کہ میں آپ سے رابطے میں رہوں گا اور معاہدہ ہوجائے گا، پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا اسلام آباد آکر میں بہت سے مسائل میں دھنستی چلی گئی وقت گزرتا رہا میں اپنی زندگی کے گرداب سے پیر باہر نہ نکال سکی اور ڈاکٹر ہلال نقوی کے حسب منشاء کلیات جوش انکی تدوین کے ساتھ شایع ہوگئی مگر اس سارے مراحل میں وہ یہ بات بھول گئے یا طے شدہ پروگرام کے پیش نظر نہ تو مجھ سے اجازت نامہ طلب کیا گیا نہ ہی محمل و جرس کے لئے کوئی بات کی مجھے اچانک خبر ملی کہ کلیات چھپ گیا دیکھ کر خوشی تو بہت ہوئی مگر اپنے بگڑے ہوئے حالات پہ بہت رونا آیا کہ میں چاہنے کے باوجود نہ کرسکی یا دانستہ طور پر مجھے مرکز سے بھٹکا دیا گیا تھا نیز یہ قانونی طور پر ویلکم بک پورٹ والوں کی ذمے داری تھی کہ جب مختار نامہ میرے پاس تھا تو کلیات کی اشاعت سے پہلے مجھے فون کرکے منگواتے اور محمل و جرس کی بھی بات کرتے تاکہ کلیات میں شامل ہوجائے ہلال نقوی صاحب کی بھی اخلاقی ذمے داری تھی کہ مجھے مطلع کرتے مگر ان سب کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ شاید ہم رائلٹی مانگیں گے باور ہو کہ کلیات جوش کی قیمت دس ہزار روپئے ہے اور یہ کلیات تین جلدوں پر مشتمل ہے ، ایک انتہائی ضروری بات کہ جوش صاحب کو دنیا سے رخصت ہوئے 39 برس گزر گئے ہیں مگر آج تک انکو کیش کرنے والوں نے ایک پھوٹی کوڑی بھی حقداران کو نہیں دی گئی یہ بھی فیس بک کے احباب کے علم میں لانا چاہتی ہوں کہ حضرت جوش کے فرزند اور ہمارے والد سجاد حیدر خروش کا 1994 میں کینسر کے باعث انتقال ہوگیا تھا اور اس سانحے کے ٹھیک پونے دو سال بعد جوش کے بر سر روزگار پوتے ساجد حیدر کا ہارٹ فیل ہوگیا تھا گھر کے دو کفیل یکے بعد دیگرے رخصت ہوگئے تھے اور اسی کسمپرسی کے عالم میں جوش کی پوتی ساجدہ سجاد حیدر جو کراچی میں جوش میمورئل کمیٹی کی سیکریٹری جنرل تھی کینسر جیسی موذی بیماری میں مبتلا ہو گئیں اور بغیر مناسب علاج معالجے کے بہت بے بسی کے عالم میں رخصت ہوگئیں مگر افسوس اتنے موقر ادارے نے انتہائی کم مائیگی کا مظاہرہ کیا اور اتنے بڑے محقق نے دنیا کے سامنے جوش پر اتھارٹی کا لیبل تو سینے پر سجا لیا مگر یہ ضرور سوچنا چاہئے تھا کہ جوش صاحب عالم بالا سے انکو دیکھ کر کیا سوچ رہے ہونگے
,, You too brutus
جوش صاحب اپنی کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے پبلشر کے روئیے سے بہت نالاں رہتے تھے اور بہت دکھ کے ساتھ پبلشر کے بارے میں کہا کرتے تھے

ہمارے لخت دل ہیں آپکا مال تجارت ہے

کے مصداق جوش کے،، لخت دل،، کی خوب خوب تجارت ہوتی ہے اور شرمناک بات یہ ہے کہ پہلے جوش کے بیٹے پوتے پوتیوں اور اب خصوصا” مجھ پر تنقید کی جا رہی ہے کہ میں گویا کتابیں بوریوں میں رکھ کر بیٹھی ہوئی ہوں

کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
——————–

Tabassum malehabadi-daughter -of -josh -maleabadi