یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلرز سے اضافی عہدے واپس

کراچی( سید محمد عسکری) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے عدالتی احکامات کی روشنی میں پرووائس چانسلرز کے عہدوں پر تعینات 2 ریٹائرڈ پروفیسرز کرتار دیوانی اور زرناز واحد سے اضافی عہدے واپس لے لیے ہیں جن کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے جب کہ سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے کنٹرولر اور سکریٹری تبدیل کردئیے ہیں۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے نوٹیفیکشن کے مطابق کرتار دیوانی سے ڈائریکٹر اوجھا کیمپس اور ڈائریکٹر ڈاؤ ڈائیگونسٹک ریفرنس اینڈ ریسرچ لیبارٹری اوجھا کیمپس کے اضافی عہدے واپس لے لیے ہیں جب کہ زرناز واحد سے پرنسپل ڈاؤ انٹرنیشنل کالج اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاؤیونیورسٹی اسپتال کے اضافی عہدے واپس لے لیے ہیں۔ یاد رہے کہ محکمہ بورڈز و جامعات ریٹائرڈ ہونے کے باعث ان دونوں پرووائس چانسلرز کو عہدوں سے پہلے ہی ہٹا چکا ہے تاہم دونوں ریٹائرڈ پروفیسرز نے اس معاملے پر عدالت سے اسٹے لے رکھا ہے، ادھر سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن میں 18 گریڈ کے ڈپٹی کنٹرولر ارباب تھیم سے ناظم امتحانات کا چارج لے کر 19 گریڈ کے آئی ٹی منیجر گل محمد کھنڈ کو دے دیا ہے جب کہ حیرت انگیز طور پر 20 گریڈ کے قاضی عارف سے سکریٹری کا چارج لے کر 18 گریڈ کے نعیم سلہیری کو لک آفٹر کا چارج دے دیا گیا ہے، ٹیکنکل بورڈ کے چیرمین ڈاکٹر مسرور کی تین برس کی مدت اکتوبر 2019 میں مکمل ہوچکی ہے اور تلاش کمیٹی نے گزشتہ برس جو تین نام منتخب کیے تھے اس میں ان کا نام نہیں تھا اور پروفیسر ارشد اعظمی کو چیرمین بورڈ منتخب بھی کرلیا گیا تھا مگر ایک حساس ادارے نے انہیں کلیئر نہیں کیا جس کی وجہ سے ڈاکٹر مسرور شیخ تاحال مدت ختم ہوجانے کے باوجود عہدے پر موجود ہیں مگر وہ رواں سال ستمبر میں ریٹائرڈ ہوجائیں گے
https://jang.com.pk/news/908399?_ga=2.165374902.880305751.1617845147-345768500.1617845142
————————-
جامعہ کراچی کے تحقیقاتی ادارے ڈاکٹر محمد اجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمد اجمل خان کی تحقیقی وعلمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے انسٹی ٹیوٹ ہذا میں سہ روزہ ورچول بین الاقوامی کانفرنس بعنوان: ”ہیلوفائٹ پودوں کی ماحولیاتی فعلیات اور پائیدار استعمال“ کا انعقاد کیاگیا، افتتاحی تقریب سے ڈاکٹر محمد اجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن جامعہ کراچی کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ کانفرنس کے ذریعے شورزدہ زمینوں پر قدرتی طور پر پائے جانے والے نباتات یا ہیلوفائٹس کی ماحولیاتی فعلیات اور ممکنہ استعمال کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے گی، اس موقع پر یونیسکو تھائی لینڈ کے قدرتی علوم کے سربراہ ڈاکٹر بینوبوئر نے ڈاکٹر اجمل خان سے اپنی دیرینہ دوستی اور علمی وتحقیقی اشتراک کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر اجمل خان نے ہیلوفائٹس کی نمکیات برداشت کرنے کی صلاحیت اور ان کے بطور غیر روایتی فصل استعمال پر اعلیٰ پائے کی تحقیق کی جو بین الاقوامی سطح پر سراہی جاتی ہے۔ڈاکٹر بینونے مذکورہ تحقیقاتی ادارے کو کانفرنس کے انعقاد پر سراہا اور اس سلسلے کو مستقبل کی غذائی ضروریات کی منصوبہ سازی میں اہم قراردیا
—————–https://jang.com.pk/news/908371?_ga=2.207258394.880305751.1617845147-345768500.1617845142———-
———–
صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی، مستقل افسران کی عدم دستیابی اور اپنا علیحدہ دفتر نہ ہونے کے باعث محکمہ بورڈز و جامعات کسمپرسی کا شکار ہوگیا ، اہم فائلیں، سمریز اور ریکارڈ غائب ہونے لگا ، تحقیقات یا تو مکمل نہیں ہوتیں یا پھر معاملات کو دبا دیا جاتا ہے۔ محکمہ بورڈز و جامعات کے سربراہ اور ایڈیشنل چیف سکریٹری علم الدین بلو کو سینئر ممبر بورڈ مقرر کیا جا چکا ہے اور اب ان کے پاس اس عہدے کا اضافی چارج ہے جس کی وجہ سے وہ دفتر ہی کم آتے ہیں ،محکمہ میں کوئی ایڈیشنل سکریٹری نہیں نہ ہی کوئی ڈپٹی سکریٹری ہے، ایک ایڈیشنل سکریٹری کامران شمشاد بیٹھنے کی جگہ نہ ملنے کے باعث چلے گئے جب کہ دوسرے ایڈیشنل سکریٹری اسد ابڑو نے اپنا تبادلہ کروالیا، ڈائریکٹر لیگل مدثر خان جن کے پاس ایڈیشنل سکریٹری کا اضافی چارج تھا وہ عدالتی فیصلے کے بعد واپس لے لیا گیا ہے، خالد حسین مہر جو کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ڈیپوٹیشن پر سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن آئے مگر انہیں محکمہ بورڈز و جعامعات میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن کا چارج دیا گیا وہ بھی اب واپس لے لیا گیا ہے اسی طرح ڈپٹی ڈائریکٹر ایس ٹیوٹا محمد نواز تھیم سے سیکشن آفیسر، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اسسٹنٹ ارباب علی میمن سے کمپیوٹر اپریٹر اور ایچ ای سی کے اسسٹنٹ اسماعیل پتانی سے محکمہ بورڈ و جامعات کے اسسٹنٹ کا چارج بھی واپس لے لیا گیا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ محکمہ بورڈز و جامعات میں ڈرائیورز، چپراسیوں اور چوکیداروں کی اکثریت کا تعلق تعلیمی بورڈز یا سرکاری جامعات سے ہے، محکمہ بورڈز و جامعات کی اپنی کوئی عمارت نہیں اس وقت اس کے دفاتر سندھ ایچ ای سی کی عمارت کی نچلی منزل پر قائم ہیں، اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور چیئرمین بورڈ کے مقرر کردہ ناظم امتحانات کی بےقاعدگیوں سے متعلق نیب شکایات کی تحقیقاتی رپورٹ غائب کردی گئی اسی طرح ایس ٹیوٹا کے ڈائریکٹر کی خاتون سے متعلق شکایات کی تحقیقات بھی منظر عام پر نہیں اسکیں، اس کے علاوہ محکمہ سے اہم فائلیں، سمریز اور ریکارڈ یا تو غائب ہے یا ادہر ادھر کردیا گیا ہے۔
—————
https://jang.com.pk/news/908434?_ga=2.207258394.880305751.1617845147-345768500.1617845142
—————–

کراچی ( رپورٹ محمد منصف ) سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تعلیمی بورڈز میں سیاسی بنیادوں پر 21ناظم امتحانات اور سیکرٹریز کی بھرتیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ تمام اسامیوں کیلئے از سر نو اشتہار دیا جائے۔ واضح رہے کہ 7 اپریل 2020 کو سندھ ہائی کورٹ کےجسٹس ندیم نے مذکورہ بھرتیاں غیر قانونی قرار دی تھیں اور اپنی آبزرویشن میں کہا تھا کہ حکم امتناع کے باوجود تعیناتیاں کرکے میرٹ کا قتل کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس مشیر عالم ، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے درخواست گزاروں کی اپیل مسترد کر کے عدالت عالیہ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاس ہونے والے دو امیدواروں سے امتحان لینے کے بجائے صرف انٹرویو لیا جائے باقی سب اسامیوں کیلئے نئے سرے سے اشتہار جاری کیا جائے اور میرٹ کے عین مطابق اہل امیدواروں کو ہی بھرتی کیا جائے۔قبل ازیں سندھ ہائی کورٹ میں درخواست گزار مشتاق احمد سندراسی ، مظفر جمیل مرزا اور سید عمیر احمد نے حکومت سندھ ، چیف سیکرٹری سندھ اور یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ و دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ سندھ حکومت نے یکم مارچ 2019 کو انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن بورڈ آف کراچی ، حیدرآباد، سکھر ، میر پور خاص اور لاڑکانہ کیلئے کنٹرولر ایگزامینیشن کی اسامیوں کیلئے اشتہار دیا اور خواہشمند افراد سے اہلیت کے مطابق درخواستیں طلب کیں، درخواست گزاروں نے حصہ لیا اور آئی بی اے کو تحریری امتحان دیا جہاں کامیابی کیلئے 50 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی شرط تھی ، تحریری امتحان کے بعد تمام امیدواروں میں سے صرف تین امیدوار کامیاب قرار پائے۔