اسٹیٹ بینک کے نئے گورنر رضا باقر ۔۔۔۔۔۔۔توقعات پر پورا اتر سکیں گے؟

طارق باجوہ کے استعفے کے بعد حکومت نے ڈاکٹر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا نیا گورنر مقرر کر دیا ہے ۔وزارت خزانہ نے ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے ۔ڈاکٹر رضا باقر کی تقرری تین سال کے لئے عمل میں لائی گئی ہے۔
ڈاکٹر باقر رضا کون ہیں ان کی کیا قابلیت ہے اور وہ اسٹیٹ بینک کے اہم عہدے کے لیے ان کا چناؤ کیسے ہوا… یہ اور اس جیسے مزید کئی سوالات لوگوں کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔
ایک تاثر یہ ہے کہ انہیں آئی ایم ایف کے دباؤ پر گورنرسٹیٹ من بنایا گیا ہے اور وہ پاکستان کی نہیں بلکہ باہر سے کسی کی چوائس ہیں۔
دوسرا تاثر یہ ہے کہ انہیں حفیظ شیخ نے چنا ہے اور ہمیں شیخ ملک میں بہترمعاشی نتائج دینے کے لیے اپنی اچھی ٹیم تیار کر رہے ہیں اور انہیں ضرورت تھی کے گورنر سٹیٹ بینک ان کے لیے معاون ثابت ہو۔


ڈاکٹر باقر رضا طویل عرصے سے انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ میں کام کر رہے ہیں اس وقت مصر میں آئی ایم ایف کے سینئر نمائندے کے طور پر تعینات ہیں بلغاریہ اور رومانیہ میں بھی مشن چیف کے طور پر تعینات رہے انہوں نے عالمی مالیاتی ادارے کے ڈیبیٹ والی سی ڈویژن کے سربراہ کے طور پر بھی فرائض انجام دیے ڈاکٹر رضا باقر ہارورڈ اور برکلے یونیورسٹی سے اعلی تعلیم یافتہ ہے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
دوسری جانب یہ اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ حکومت نے ڈاکٹر احمد مصطفیٰ کا نام نئے چیئرمین ایف بی آر کے لئے فائنل کرلیا ہے ڈاکٹر احمد مصطفیٰ میمن ایڈیشنل سیکرٹری فنانس ڈویژن رہے اور ان کا تعلق پاکستان کسٹمز سروس ہے۔
اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر میں ہونے والی ان تبدیلیوں پر پاکستان مسلم لیگ نون سمیت اپوزیشن جماعتوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان تبدیلیوں کو آئی ایم ایف کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں