بادشاہی مسجد کی چھتوں اور دیواروں میں سوراخ ہوگئے

مغل بادشاہ اورنگزیب کے حکم پر تعمیر کی جانے والی شاندار بادشاہی مسجد کی چھتوں اور دیواروں میں سوراخ ہوگئے ہیں اور اس کی عظمت رفتہ کو بحال رکھنے کے لئے اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے پاکستان کے پراپرٹی ٹائیکون اور بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض نے پیشکش کردی ہے کے بادشاہی مسجد ہمیں دے دیں ہم اس کی بحالی کریں گے یہ اللہ کا گھر ہے اس کی بحالی کے لیے ہم سے جو کچھ ہوسکا ہم کریں گے اللہ کے گھر کی اصل حالت میں بحالی پر جتنا پیسہ لگا میں خود لگاؤں گا مسجد کی چھتوں اور دیواروں میں سراہ ہوچکے ہیں اور اسے فوری توجہ کی ضرورت ہے یہ ثواب کا کام ہے مجھے یہ موقع دیا جائے میری ساری عمر کے لئے یہ کافی ہوگا انہوں نے کہا کہ یہ کامیاب تو نیب کو دے دیا جائے یا پھر مجھے دے دیا جائے کیونکہ اس حوالے سے جو کمیٹیاں بنائی جائیگی کمیٹیوں کے فیصلے کبھی بھی ایسے نہیں ہوتے نئی آپ دیکھ لے اور اگر اس کا مسجد کی بحالی کا اور تزئین و آرائش کا کام مجھے دے دیا جائے تو جتنا پیسہ درکار ہوگا میں لگاؤں گا انہوں نے کہا کہ ہم نے بحریہ مسجد کا انتظام سنبھالا ہوا ہے اور بحریہ ٹاؤن کے اندر مسجد کو بہترین انداز سے دیکھتے ہیں ۔


یاد رہے کہ بادشاہی مسجد کی تعمیراتی کام کا آغاز سولہ سو اکتر میں بادشاہ اورنگزیب کے حکم پر ہوا تھا اور دو سال سے زائد عرصہ میں اسے تعمیر کیا گیا یہ مغل طرز تعمیر کا ایک شاہکار ہے فیصل مسجد سے پہلے یہ سب سے بڑی مسجد تھی اور اب اس کا شمار پاکستان کی دوسری بڑی مسجد میں ہوتا ہے جہاں ایک لاکھ سے زائد نمازی سما جاتے ہیں سکھ دور حکومت اور پھر برطانوی دور حکومت میں اس مسجد کے بیرونی حصوں کو نقصان بھی پہنچا لیکن حکومت نے اپنے طور پر اس کی دیکھ بھال کا انتظام کیا ۔اب میرے ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض نے اس کی دیکھ بھال کا کام اپنے ذمے لینے کی پیشکش کی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں