طارق باجوہ کو مستعفی ہونے کے لیے فون کس نے کیا؟

گورنر اسٹیٹ بینک بلاشک و شبہ بینکنگ کی دنیا کا بادشاہ ہوتا ہے اس کی ایک ٹیلی فون کال پر بہت کچھ ہوجاتا ہے ۔لیکن اس مرتبہ ٹیلی فون کال گورنرسٹیٹ بینک کی طرف سے نہیں کی گئی تھی بلکہ ان کے لیے ایک کال آئی تھی۔ آنے والی ٹیلی فون کال میں ان سے استعفی دینے کے لیے کہا گیا تھا ۔ یہ ٹیلی فون کال کہاں سے آئی اور ان سے استعفیٰ کیس نہیں مانگا؟ یہ دلچسپ کہانی ہے جو حقیقت پر مبنی ہے ۔اس کے راوی طارق باجوہ کے ایک قریبی دوست ہیں جن کا کہنا ہے کہ تاریخ باجوا کو اسلام آباد سے آنے والی کال فیصلہ کن ثابت ہوئی۔


وزیراعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے ٹیلیفون کر کے وزیر اعظم کا پیغام پہنچایا اور طارق باجوہ کو یاد دلایا ہے کہ وزیر اعظم سے ایک گفتگو کے دوران آپ نے کہا تھا کہ جب کہیں گے استعفی دے دوں گا ۔اب وزیراعظم کی خواہش ہے کہ آپ ایسا کر دیں۔  حفیظ شیخ کی بات پر طارق باجوہ نے کہا اس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن میں ایک مرتبہ وزیراعظم سے ملنا یا بات ہو جائے ۔لیکن طارق باجوہ سے وزیراعظم کی کوئی بات ہوئی نہ ملاقات ۔وزیراعظم کی مصروفیات کی وجہ سے طارق باجوہ نے ان سے ملے بغیر اور بات کئے بغیر اپنا استعفیٰ بھجوادیا جسے وزیراعظم کی جانب سے فوری طور پر منظور کیے جانے کا اعلان بھی سامنے آگیا۔ کبھی کبھی وہ لوگ جن کی ایک ٹیلی فون کال پر بہت کچھ ہوتا ہے خود بھی کسی ایک ٹیلیفون کال کی نذر ہوجاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں