وزیراعظم عمران خان پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے

پاکستان کے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما ایاز صادق نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایران میں جو بیان دیا وہ پاکستان کے خلاف چارج شیٹ ہے اور سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے اسی طرح انہوں نے جو بیان امریکی میڈیا کو دیا وہ بھی پاکستان مخالف ہے لہذا  وزیراعظم عمران خان پر آرٹیکل 6لاگو ہوتا ہے ۔
یاد رہے کہ  وزیراعظم عمران خان اور ایاز صادق پرانے دوست ہیں لاہور میں ایک ساتھ پڑھتے اور کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اور دونوں کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ اور الیکشن کی لڑائی بھی لڑی جاتی رہی ہے ۔
ایاز صادق کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے حوالے سے امریکی میڈیا اور پھر ایران کے دورے میں جو باتیں کیں وہ سنگین غداری کے زمرے میں آتی ہیں اور ان پر آرٹیکل سکس کا اطلاق ہوتا ہے اور اگر متعلقہ ادارے خاموش ہیں اور انہیں اس وزیراعظم عمران خان کی باتوں پر اعتراض نہیں تو پھر یہ سمجھا جائے گا کہ وزیراعظم نے یہ بیان ان کے کہنے پر ہی دیا ہو ۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ایران کے دورے کے دوران پریس کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کی زمین کو بھی ایران کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان پر شدید تنقید شروع کردی تھی اور اس بیان کو پاکستان کے خلاف غداری قرار دیتے ہوئے استعفی کا مطالبہ بھی کیا تھا ۔


ایاز صادق نے مزید کہا کہ عمران خان کو بتانا چاہئے کہ ان سے ڈیل کی باتیں کون کر رہا ہے  وزیراعظم عمران خان سے ڈیل کی بات کسی نے نہیں کی پھر وہی بتائیں کہ کون ہو کے پاس آکر ڈیل کی باتیں کرتا ہے ۔حیات سعدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی وزیر خارجہ بھول گئے ہیں کہ کس طرح عبدالحفیظ شیخ شوکت عزیز کی طرح ایک سوٹ کیس میں آئے ہیں اور اسی طرح واپس چلے جائیں گے ۔
مسلم لیگ کے اندر کیا ہورہا ہے اور مسلم لیگ کی پالیسی کیا ہے اس حوالے سے آیا صادق نے کہا کہ مسلم لیگ کے بیانیہ وہی ہوتا ہے جو نواز شریف کا ہوتا ہے نواز شریف کو اس وقت صحت کے مسائل ہیں اللہ تعالی ان کو صحت دے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پیپلزپارٹی کو اعتراض ہوا تو پھر شہباز شریف چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا عہدہ اپنے پاس ہی رکھیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں