اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹرائن کیوں ناکام ہوئی!!!

اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹرائن کیوں ناکام ہوئی!!!
محاسبہ
ناصر جمال

اتنی سوتیلی ہے کھا جاتی ہے اپنے بچے
ایک ڈائن جو حکومت کی طرح ہوتی ہے
(احمد عطاء اللہ)
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی ہر پالیسی پر ’’یوٹرن‘‘ ہوتا ہے۔ میں حال یا ماضی قریب کی بات نہیں کررہا۔ میں تو 74سالہ ریاستی تاریخ کی بات کررہا ہوں۔
مخالف اعتراض اٹھاتے ہیں کہ لوگ بابائے قوم کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ جولائی 1947ء میں ہی بابائے قوم کی ریاست کے خدوخال کے مخالف ہوگئے۔ جنرل حامد کی کتاب پڑھ لیں۔ بابائے قوم اس غیر رسمی استقبالیہ سے شدید ناراضگی میں چلے گئے۔ تقریب ادھوری رہ گئی۔ وہ جاتے، جاتے، یہ کہہ گئے، میری ریاست کے خدوخال یہی ہونگے۔ اگر آپ کو یہ اچھے نہیں لگ رہے، تو میری ریاست میں مت آئیں۔ لوگ لیاقت علی خان کے ساتھ ہوئے۔ یہ اُن کے مخالف ہوگئے۔ عوام مادر ملت فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑی ہوئی تو، یہ لوگ اس کے مخالف ہوگئے۔ عوام بھٹو کے ساتھ کھڑے ہوئے تو یہ بھٹو کے مخالف ہوگئے۔ عوام جونیجو کے ساتھ کھڑے ہوئے ، یہ جونیجو کے مخالف ہوگئے۔ عوام بے نظیر کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ یہ اس کے مخالف ہوگئے۔ لوگ نواز شریف کے ساتھ ہوئے، تو یہ نواز شریف کو گرانے میں مصروف ہوگئے۔ 2008ء کے بعد صورتحال تواتر سے آپ کے سامنے ہے۔ آج پورا پاکستان عمران خان کے خلاف ہے۔ یہ عمران خان کے ساتھ ہیں۔ میں نے بڑے حوصلے سے یہ سب کچھ سنا۔ میں تمام تر ریاستی اداروں سے محبت اور احترام کے باوجود، اس گفتگو کو مستردنہیں کرسکا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ عمران خان واقع ہی ’’اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا‘‘ ہے۔ ماضی میں ایسی محبت صرف نواز شریف کے حصے میں آئی۔ مگر وہ بھی اتنی خالص اور یکطرفہ محبت نہیں تھی۔ رہ گئیں بے نظیر تو ان سے اسٹیبلشمنٹ کا ایک نفرت اور قربت کا عجیب سلسلہ رہا ہے۔ بے نظیر اور نواز شریف، غلطیاں کرتے تھے۔ مگر وہ نالائق اور نااہل نہیں تھے۔ کئی معاملات میں شاید بدنیت ہوں۔ مگر نکمے قطعاً نہیں تھے۔ اپنے ساتھ انہوں نے بہتر اور تگڑی ٹیم رکھی ہوئی تھی۔
مگر نالائقی، نااہلی، اس حکومت اور حکومت کے کپتان کے ماتھے پر لکھی ہوئی ہے۔ پونے تین سال ہونے کو آئے ہیں۔ ان کا ’’پروبیشن‘‘ ہی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ گھر غیر منظم اور بکھرا پڑا ہے۔ دوسرے ممالک کے درمیان تعلقات بحال کرنے کے دعوے ہیں۔ ہم نواز شریف کو مودی کی یاری اور جاتی عمرا یاترا پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ نواز شریف نے اپنا گھر ٹھیک کرنے کی بات تو انھیں ’’ڈان لیکس‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔ آصف زرداری کو ’’حقانی لیکس‘‘ میمو گیٹ برداشت کرنا پڑی۔ مگر اب تو باجوہ صاحب، یہ خود بات کررہے ہیں۔پھر اسٹیبلشمنٹ کے ماضی کا ’’سٹانس‘‘ کس طرح لیا جائے۔
بہت سے دوست سوالات اٹھا رہے ہیں کہ ’’مودی‘‘ کو پاکستان بلانے میں کیا برائی ہے۔ تجارت کھلنی چاہئے۔ تعلقات بحال ہونے چاہئیں۔امن کو موقع ملنا چاہئے۔ مذاکرات ہی ہر مسئلے کا حل ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ فی الوقت، یہ بے وقت کی راگنی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایسی کونسی ایمرجنسی ہوگئی ہے کہ آپ نے سب کچھ پس تاک رکھ کر یہ نیا راستہ لیا ہے۔ آپ کشمیر اور قومی غیرت سب سے دستبردار ہونے پر تیار ہوگئے ہیں۔ کیا پاکستان دیوالیہ ہونے چلا ہے۔ کیا یہ ورلڈ بینک، آئی ۔ ایم۔ ایف اور ایف۔ اے ۔ ٹی۔ ایف۔ والوں کی فرمائش ہے۔ مسلسل دلدل میں دھنسنے والے مودی کو آپ ریسکیو کرنے چلے ہیں۔ جس نے دو ہفتہ قبل ہی بنگلہ دیشی قیادت کے ساتھ، جنرل نیازی کے ہتھیار ڈالتے قد آدم پورٹریٹ کے ساتھ تصاویر اتروائی ہیں۔ اور ارشاد فرمایا ہے کہ وہ مکتی باہنی کے ساتھ تھے۔ بنگلہ دیش بنانے کی لڑائی میں عملی طور پر شریک ہوئے۔
یعنی متحدہ پاکستان، ایک آزاد ملک کے اندر دراندازی کی۔ مسلح جنگ کی وہ ملک دو لخت ہوگیا۔ باقی رہ جانے والا ملک، آج اس کو بھی نظر انداز کررہا ہے۔ قومی حمیت،غیرت کیا بالکل ہی سُلا دی گئی ہے۔ یا اسی طرح کی کسی بلا کا دنیا میں وجود ہی نہیں ہوتا۔ قوم کو واضح طور پر بتایا جائے ۔ کہیں اس بار قوم سے تو ہتھیار پھینکوانے کا ارادہ تو نہیں ہے۔ قوم کو تو اس وقت بھی بے وقوف بنایا گیا تھا۔ جب اقوام متحدہ میں ہزار سال تک لڑنے کی بھڑکیں ماری جارہی تھیں۔ پھر اُسی نے ایک اسلامی کانفرنس کے چکر میں صرف تین سالوں میں یوٹرن لے لیا۔ اپنے پیپلز پارٹی کے دوستوں سے معذرت کے ساتھ۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ اس سچائی سے آپ کیسے اختلاف کرسکتے ہیں۔ یقینی طور پر سب ہی اس پر ایک پیج پر ہوں گے۔
مذاکرات سے کون انکاری ہے۔ آئے ’’مودی‘‘ کے علاوہ کوئی اور آئے۔ وہ بھارت کا کوئی اور متنازعہ شخص نہ ہو۔ اگر آپ مودی کو رعایت دینے کے چکروں میں ہیں تو صرف بتا دیں۔ حافظ سعید اور مسعود اظہر بھی مذاکراتی وفود میں شاملے ہونگے۔ پھر آپ ردعمل دیکھیں۔ پتا نہیں، حضور آپ کس دنیا میں رہتے ہیں۔
وزیراعظم نے کس کے کہنے پر تجارت کرنے کا فیصلہ کیا۔ پوری قوم کو پتا ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں کیوں’’یوٹرن‘‘ لیا۔ انھیں اپنے ممبران اسمبلی کے واٹس ایپ گروپس اور باہمی بات چیت کی ’’ہیٹ‘‘ کا اندازہ تو تھاہی، کابینہ میں شیخ رشید، فواد چوہدری اور شیریں مزاری کے سخت موقف نے بطور خاص وزیراعظم کو ’’وقتی پسپائی‘‘ پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد پھر وزیراعظم ’’دوستوں کے دبائو‘‘ پر کمیٹیاں بنا رہے ہیں۔ ایک اور یوٹرن لینے کے چکر میں ہیں۔ مگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو قطعاً اندازہ نہیں ہے کہ ’’کشمیر‘‘ پر قومی حمیت اور غیرت کا امتحان انھیں کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کے عوام کا کہیں کاغصہ کہیں اور نکلے گا۔ عوام بھرے بیٹھے ہیں۔ وہ بارود کے ڈھیر پر ہیں۔ صرف ایک چنگاری سب کچھ ختم کردے گی۔ آپ اس قوم کو کتنا بے حس اور بے بس کہہ لیں۔ یہ بھی یاد رکھیں۔ وہ 1965ء کی جنگ ہو یا زلزلہ یا اے۔ پی۔ ایس۔ یہ اپنی رائے بنانے میں ہفتے، مہینے یا سال نہیں منٹ لگاتے ہیں۔
اب تو ہمارے جیسے اداروں سے محبت کرنے والے لوگ بھی سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ افغانستان پالیسی سے لیکر سی۔ پیک پالیسی تک، ہر پالیسی پر آپ کا یوٹرن کیوں ہے۔ حتیٰ کہ نوازشریف، بے نظیر، آصف زرداری سب پر آپ کا یوٹرن کیوں ہے۔
آپ نے مودی کو سارک میں اتنی عجلت میں بلانا ہے تو براہ مہربانی اپنا قومی نصاب ، تاریخ اور نظریہ پاکستان سمیت سب کو تبدیل کرلیں۔ قوم سے معذرت کرلیں۔ قوم کو غلط پڑھایا گیا ہے۔ آپ یہ بھی مان لیں۔ آپ ریاست چلانے کے اہل نہیں ہیں۔ یا جو ماضی میں ریاست چلاتے رہے ہیں۔ ان کی مذمت کریں اور اپنا روڈ میپ دیں۔
آج اچھے خاصے سنجیدہ لوگ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ سب کو ناکام بنا کر پھر سے ’’صدارتی نظام‘‘ کا راستہ بنایا جارہا ہے۔ صدارتی نظام تو پہلے بھی اس ملک میں رہا ہے۔ جمہوری نظام بھی مسلسل دو دہائیوں سے ہے۔ ریاست، ملک اور عوام کی مشکلات تو بڑھی ہیں۔ مسئلہ آئین اور قانون ہیں۔ جن کو طاقتور ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ اس ملک کی، سیاسی، عسکری، نوکرشاہی اور معاشرتی اشرافیہ اس کا نفاذ دوسروں پر چاہتے ہیں۔
یہ ریاست، معاشرہ، عوام محض ایک تجربہ گاہ ہیں۔ ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے، اپنی سوچ کو مسلط کرنے کی غلط پالیسی سب کو لے ڈوبے گی۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اس ’’ملک اور ریاست کے برھمن‘‘ دوسروں کی بجائے خود کو سیدھا کرلیں۔ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ ماضی کی طرح ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کی ڈاکٹرائن فیل ہونے کے بعد اُوندھے منہ پڑی ہے۔ جائے کوئی اسے اٹھا لے۔ اس سے پہلے کہ اس کا سانس بند ہوجائے۔
چھوڑئیے! آپ کہاں سمجھیں گے
جائیے! آپ سے گلہ ہی نہیں