گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدے سے ہٹائے جانے والے طارق باجوہ چپ نہ رہ سکے

کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی رخصتی اس طرح عمل میں آئے گی وہ گریڈ22 کے ریٹائرڈ بیوروکریٹ ۔انتہائی تجربہ کار خوشگفتار خوش مزاج اور ذہین باصلاحیت انسان ہیں انہوں نے بطور سیکٹری فائنینس اور اکنامک افیئرز پاکستان کے لیے خدمات انجام دے رہی تھی انہیں انیس میں گورنرسٹیٹ بینک کے طور پر 2017 میں منتخب کیا گیا اور انہوں نے 2019 تک خدمات انجام دیں وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں Littauer فیلوشپ جیتنے والے واحد پاکستانی ہیں .
کپتان کی حکومت نے ان سے گورنر اسٹیٹ بینک کا عہدہ واپس لے لیا انہیں اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے عہدے سے ہٹایا گیا تو ان سے پوچھا گیا کہ کیا عدالت جانا چاہتے ہیں اس سوال پر ان کا جواب تھا کہ میں عدالت جا سکتا ہوں لیکن مجھے ذاتی مفاد سے زیادہ ملکی مفادات عزیز ہیں اگر میں اپنے خلاف اقدام سے ناخوش ہو کر ادھر چلا جاتا ہو تو ملکی مفادات کا نقصان ہوگا ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے ان سے پوچھا گیا تھا کہ آپ کو قبل از وقت استعفیٰ کیوں دینا پڑا تو انہوں نے کہا کہ کچھ معاملہ جیسے ہو جاتے ہیں بہرحال انہیں اپنی نوکری سے زیادہ ملکی مفادات عزیز ہیں اسی لیے انھوں نے عدالت کی بجائے استعفٰی کا ترجیح دیں ان کا کہنا تھا کہ وہ پیر کے روز اسٹیٹ بینک جائینگے اور استعفی دے کر واپس آجائیں گے ۔
حکومتی ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ طارق باجوہ کو اسٹیٹ بینک کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ تو اسد عمر کے دور میں ہی ہو گیا تھا لیکن آئی ایم ایف سے بیل اوٹ پیکیج اور ریونیو معاملات پر جو صورتحال سامنے آئی اس پر مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے مشاورت کے بعد فوری طور پر وزیراعظم کو یہ اقدام اٹھانا پڑا ۔طارق باجوہ کو صورتحال سے آگاہ کردیا گیا اور انہوں نے استعفی دے دیا ۔


معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ طارق باجوہ ایک بہتر کام کرنے والے گورنرسٹیٹ میں کے طور پر سامنے آئے تھے لیکن ان کے اوپر بہت سے اقدامات میں سے تنقید بھی ہو رہی تھی معاملات اتنے آسان نہیں تھے دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت متبادل کے طور پر جو انتظام کرتی ہے اس میں کس حد تک کامیابی حاصل کرواتی ہے ۔حکومت کو جن معاشی چیلنج اور مشکلات کا سامنا ہے اس میں طارق باجوہ کی جگہ آپ کسی بھی شخص کو لا کر گورنر اسٹیٹ بینک بنائیں گے تو وہ راتوں رات حکومت کو ان مشکلات سے باہر نہیں نکال سکتا کسی بھی گورنر اسٹیٹ بینک کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہوتی پالیسیاں بنانے میں وقت لگتا ہے اور پالیسیوں کے نتائج سامنے آنے میں اس سے بھی زیادہ وقت درکار ہوتا ہے ابھی تک تو طارق باجوہ نے صرف اتنا بولا ہے کہ وہ ملکی مفادات کی خاطر عدالت نہیں جا رہے لیکن عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں تاریخ باجوہ مزید حقائق سے پردہ اٹھائیں اور انہیں مزید بولنا پڑے ۔اگر ملک کی معاشی صورتحال بہتر نہ ہوسکی اور طارق باجوہ نے حقائق سے پردہ نہ اٹھایا تو بھی ان کے ضمیر پر بول رہے گا کہ وہ بہت سے حقائق جانتے ہوئے بھی خاموش رہے اور انہوں نے قوم کو صحیح صورتحال سے آگاہ نہیں کیا اور اگر وہ بولنا شروع ہوگئے تو حکومت کے لیے اور شاید پالیسی سازوں کے لئے نئی مشکلات کھڑی ہوجائیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں