کپتان کی حکومت سولہ ٹیکنوکریٹس کے حوالے

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزیر خزانہ اسد عمر کی تبدیلی کے بعد سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ یہ حکومت آپ ٹیکنوکریٹس کے حوالے ہوچکی ہے عملی طور پر پی ٹی آئی کی حکومت کو منتخب لوگوں کی بجائے غیر منتخب لوگ چلا رہے ہیں ۔اداروں کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے یہی فلسفہ اپنا کر پی ٹی آئی کی حکومت نے مختلف شعبے ٹیکنوکریٹس کی سپردکر دیے ہیں ۔ملکی معاشی پالیسیاں اس وقت ایک غیر منتخب شخصیت ڈاکٹر حفیظ شیخ کے حوالے کردی گئی ہیں جو آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہے ہیں انہوں نے ملک میں اپنی نئی معاشی اور اقتصادی ٹیم بنانے کا عمل بھی تیز کردیا ہے ان کے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر میں اعلیٰ ترین عہدوں پر تبدیلیاں سامنے آچکی ہیں ملک تیزی سے مزید قرضے لینے کی جانب بڑھ رہا ہے ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کے حجم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے حکومت سنبھالنے سے پہلے اعلان کیا تھا کہ اگر مجھے قرض لینے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو اس سے بہتر ہوگا میں خودکشی کر لوں ۔
لیکن یو ٹرن لینے کے ماہر عمران خان جن کا فلسفہ ہے کہ بڑا لیڈر وہی ہوتا ہے جو اپنی بات پر یوٹرن لے لیتا ہے وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے معاملے پر بھی واضح طور پر یوٹرن لے چکے ہیں ۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت حکومت سولہ ٹیکنوکریٹس چلا رہے ہیں تمام اہم حکومتی فیصلے اور پالیسیاں غیر منتخب لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جو پارلیمنٹ کو جواب دے نہیں ہیں ۔بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اٹھارہ اپریل کو جب سے تبدیلیاں آئی ہیں پاکستان میں عملی طور پر ٹیکنوکریٹس کے ذریعے صدارتی نظام قائم ہوچکا ہے ۔


ملک کے تمام اہم معاملات کی وزارتیں غیر منتخب شخصیات کے ہاتھوں میں جانے کا اور کیا مطلب لیا جائے کیا 22 سالہ سیاسی جدوجہد کے دوران عمران خان کے پاس ایک ایسی ٹیم بھی تیار نہیں ہوسکی جو حکومت ملنے پر حکومتی معاملات کو منتخب لوگوں کے ذریعے چلا سکے اگر اس حکومت کے پاس چاروں صوبوں سے بھرپور مینڈیٹ ہے تو پھر جن لوگوں کو عوام نے منتخب کر کے ایوانوں میں بھیجا ہے ان میں کیا ایسے لوگ نہیں ہیں جو اتنی اہلیت صلاحیت قابلیت اور ذہانت رکھتے ہوں کہ امورمملکت چلا سکیں اگر عمران خان کی تیار کردہ ٹیم میں حکومتی امور چلانے کی صلاحیت اور قابلیت نہیں تھی تو پھر وہ کیسی اپوزیشن کررہے تھے کیونکہ اپوزیشن کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک شیڈو کابینہ تیار کرے تاکہ آنے والے دنوں میں جب اسے حکومت ملے تو وہ بہتر پالیسیاں سامنے لے کر آئے لیکن کپتان کے پاس تو کابینہ بنانے کے لیے لوگ ہی نہیں تھے تو بہتر پالیسیاں کیسے سامنے آتی یہی وجہ ہے کہ اب مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے پرانے وزیروں کی فوج جمع کی جا رہی ہے کسی کو معاون خصوصی اور کسی کو مشیر بنایا جارہا ہے مانگے تانگے کے لوگوں پر حکومت کی پالیسیاں منحصر ہیں ۔جن لوگوں کو فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے وہ نہ تو عوام کو جواب دے ہی نہ پارلیمنٹ کے سامنے آنا ان کی مجبوری ہے نہ دوبارہ عوام کے پاس ووٹ لینے کے لئے جانا ان کی ضرورت ہے ۔


سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت ڈکٹیشن لینے پر مجبور ہو چکی ہے اور کپتان کے لیے ہر آنے والا دن پہلے دن سے زیادہ مشکل اور زیادہ مسائل سے بھرپور نظر آرہا ہے ۔سوئی گیس کی دونوں بڑی کمپنیوں کے سربراہان پر عدم عتماد کرکے تبدیلیاں لا چکے ہیں ۔پٹرولیم مصنوعات ان سے قابو نہیں ہورہی ۔نیشنل بینک سے اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے اعلی عہدوں تک ہر جگہ تبدیلیاں کرکے دیکھ لیں معاملات کو بہتر کرنے کا کوئی سرا حکومت کے ہاتھ نہیں لگ رہا ۔تمام معاشی انڈیکیٹرز منفی کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔
معاشی ماہرین کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے ادارے بھی معاشی صورتحال سے پریشان نظر آ رہے ہیں ہر جانب تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔اسد عمر کو ہٹائے جانے کے بعد اگر پلان بھی بھی کامیاب نہ ہوسکا تو پھر کیا ہوگا ؟
سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو بالآخر اسحاق ڈار کی پالیسی پر ہی جانا پڑے گا اسحاق ڈار کو کچھ بھی کہ یہ انہوں نے پیٹرولیم اور ڈالر کی قیمتیں مستحکم رکھی ہوئی تھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں