بلے پر شیر کا نشان

پاکستان میں بلا اس وقت حکومت کررہا ہے اور شیر مشکل میں ہے ۔کبھی شیر کی حکومت تھی اور بلا . لہر آنے والے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ۔تب جلسوں میں بھی بلے والے کہا کرتے تھے
میاں صاحب جان دیو ساڈی واری آندھیوں
دوسری طرف سے جواب دیا جاتا تھا
یہ منہ اور مسور کی دال
شیرکا دھاڑنا بتاتا تھا اسے بلے کی کوئی فکر نہیں ۔
ایک دن شیر بولا میرے دوستو میرے ساتھیو …ہماری لڑائی بلے سے نہیں…۔تیر چلانے والوں سے بھی نہیں
ہمارا مقابلہ تو خلائی مخلوق سے ہے ۔
لڑائی ان سے ہے جو نظر نہیں آتے ۔
پھر ساری دنیا نے دیکھا ۔واقعی یہ لڑائی لڑی گئی ۔شیر نے سچ کہا تھا مقابلہ ان سے نہیں تھا جو سامنے نظر آ رہے تھے مقابلہ تو ان سے تھا جو نظر نہیں آرہے تھے ۔
پھر شیر کو بے بس کردیا گیا
شیر کے لیے جال بچھایا گیا
شیر جانتا تھا



پانامہ اور جے آئی ٹی جیسے جال اسی کے لیے بچھائے گئے تھے
ایک دن شیر خراماں خراماں خود چلتا ہوا پنجرے کے اندر آ گیا ۔
پھر بلا لہرانے والوں کی باری آگئی
دراصل شیر کی خالہ نے اسے درخت پر چڑھنا نہیں سکھایا تھا
خالہ نے اس درخت کا بلہ جو بنانا تھا ۔اس بلے سے بیٹنگ بھی کرنی تھی
آج بلا بیٹنگ کر رہا ہے ۔لیکن چوکے چھکے نہیں لگ رہے۔
سامنے سارے بولر ایسے ہیں جو انتہائی فاسٹ بولنگ کر رہے ہیں کبھی بم سر پر باؤنسر آتا ہے تو کبھی خطرناک یارکر ۔
جس نے خزانے کا حساب رکھنا تھا وہ تو کلین بولڈ ہو چکا ۔
جنگل پر بیرونی حملے کا خطرہ ہے
سب نے مل کر اجلاس بلایا ہے اور شیر کی طاقت بحال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔


فی الحال شیر مکمل آرام کرنے کے موڈ میں ہے خاموش ہے لوگ اس کی دھاڑ سننا چاہتے ہیں لیکن وہ دھاڑ نہیں رہا ۔
شیر اپنی شیرنی کے فوت ہونے کے بعد سے بالکل گم سم ہے خاموش ہے صدمے میں ہے ۔
جو شیروں کا شکاری مشہور تھا وہ بھی مشکل میں ہے
جو کشمیر کمیٹی چلاتا تھا وہ بھی آؤٹ ہے
جو افغانوں کی محبت میں سرشار تھا وہ بھی خاموش ہے
ایک نیا منظر نامہ بن رہا ہے قرض بڑھ رہا ہے آنے والے دن مشکل سے مشکل تر نظر آ رہے ہیں
ڈر اس بات کا ہے کے شور مچا مچا کر اپنی باری لینے والے کہیں بھلا پھینک کر بھاگ نہ جائیں ۔دوسروں پر الزام لگاتے لگاتے خود کہیں روندو کھلاڑی نہ بن جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں