کیا نون لیگ آئی سی یو میں جارہی ہے

پاکستان مسلم لیگ نون کے حالیہ تبدیلیوں کے فیصلے کے حوالے سے ناصرف سیاسی قوتیں بلکہ ان کے حامی اور عوام بھی حیران ہے اچانک کیے گئے یہ فیصلے کیوں اور کس کے حکم پر ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے تو اعلان کردیا ہے کہ شہباز شریف اب واپس نہیں آئیں گے وہ لندن میں ہی رہیں گے مگر یہ کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں۔
جس دن شہباز شریف کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور پارلیمانی لیڈر کے عہدے دوسرے پارٹی لیڈروں کو دینے کا اعلان ہوا اسی دن وزیراعظم عمران خان نے مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میران کیا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔
پاکستان پیپلزپارٹی حیران ہے صرف مقتدرحلقے خاموش ہیں اطلاعات آ رہی تھیں کہ نون لیگ سے قربت رکھنے والے حکمران ان کو بچانے کے لیے سرگرم ہیں اور عمران خان پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
نون لیگ کی صورتحال بڑی دلچسپ ہے نواز شریف تکنیکی بنیاد پر پارٹی کے لیے کچھ نہیں کر سکتے اور شہباز شریف پارٹی سے علیحدہ ہوگئے ہیں نہ مریم نہ حمزہ آپ پارٹی خاقان عباسی کے پاس ہے مستقبل میں کیا ہوگا پارٹی کے رہنما تقسیم دکھائی دیتے ہیں بعض کا خیال ہے کہ یہ معاملہ وہی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے چلا آرہا تھا۔


کسی کی خواہش تھی نواز شریف پارٹی کا در چھوڑ دیں اور شہباز کو دے دیں جب یہ خواہش رضاکارانہ طور پر نہیں پوری ہوئی تو جبر کے ساتھ نواز شریف سے چھین کر شہباز کو دے دیں گی پھر اب یہ شہباز سے بھی چھین لی گئی یا رضاکارانہ طور پر دے دی گئی. 
سیاسی پنڈت کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی بھی اب بھٹو کی پارٹی نہیں زرداری کی پارٹی ہے پارٹی جانثاروں کو مطمئن رکھنے کے لئے بلاول کے ساتھ بھٹو اور زرداری دونوں لگاکر پارٹی ورکرز اور خواہش رکھنے والوں کو خوش کرنے کے لئے زرداری بھی لگا دیا گیا وہ الگ بات ہے کہ ماں کی تربیت کے باعث بلاول کی شکل میں پھر پارٹی بھٹو کی پارٹی بنتی جارہی ہے اس تمام صورتحال کا فائدہ اگر کسی کو ہورہا ہے تو وہ ہی سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف ۔اور ان کا طرز عمل ثابت کر رہا ہے کہ وہ آج بھی محفوظ ہیں اور طاقتور ہیں اور طاقتور طبقہ بھی مطمئن ہے۔
سیاسی حلقے اب انتظار میں ہیں کہ عمران خان اور اس کی پارٹی کے لیے کیا ماسٹر پلان بنایا جا رہا ہے کیا وہ بھٹو بنیں گے نواز شریف یا بے نظیر یا پھر کوئی اور پلان بھی کا شکار ہوں گے جس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے کیونکہ ملک میں ہر سیاسی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی امتحان شروع ہوتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں