بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام میں آٹھویں جماعت کے طالب علم نے پرنسپل کے دھمکانے پر اسکول کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام کے دونگڑے نگر میں آٹھویں جماعت کے ایک طالبِ علم نے مبینہ طور پر اسکول کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی۔
قومی سطح پر اسکیٹنگ مقابلوں میں شریک رہنے والے 13 سالہ بچے کو شدید زخمی حالت میں نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت اب مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
اسکول انتظامیہ کے مطابق لڑکا جمعرات کو موبائل فون ساتھ لایا تھا اور اس نے کلاس روم کی ایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی، جو اسکول کے قواعد کی خلاف ورزی ہے، جس پر جمعہ کو انتظامیہ نے بچے کے والدین کو اس بارے میں بات کرنے کے لیے بلایا تھا۔
تحقیقات کا حصہ بننے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں طالبِ علم کو پرنسپل کے دفتر میں داخل ہوتے دیکھا گیا، جہاں اس نے تقریباً چار منٹ تک بار بار “سوری” کہا، طالب علم نے مجموعی طور پر 52 مرتبہ معذرت کرتے ہوئے اپنے فعل پر معافی مانگی۔
پرنسپل نے مبینہ طور پر اس کا کیریئر ختم کرنے اور اسکول سے نکال کر میڈلز چھیننے کی دھمکی دی تھی۔ یہ باتیں سن کر بچہ ٹوٹ گیا، حالانکہ وہ دو مرتبہ قومی اسکیٹنگ مقابلوں میں ریاست کی نمائندگی کر چکا ہے۔ اس ساری صورتحال پر چند لمحوں بعد بچہ پرنسپل آفس سے بھاگتا ہوا باہر نکلا اور اچانک تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔
اس دوران لڑکے کے والد پریتم کٹارا اسی وقت اسکول کے ویٹنگ ایریا میں موجود تھے مگر انہیں اس واقعے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
والد نے بتایا کہ مجھے اسکول نے بلایا تھا۔ جب میں پہنچا تو پتا چلا کہ میرا بیٹا گر گیا ہے۔ وہ دو مرتبہ نیشنل لیول پر گیا ہے۔ اسکول سے پہلے فون آیا، پھر دوسرا فون آیا کہ سیدھا اسپتال پہنچیں۔























