بیورو کریسی میں تقرر و تبادلے،حیدر ضامن کی سندھ حکومت میں ڈیپوٹیشن میں توسیع

بیورو کریسی میں تقرر و تبادلے،حیدر ضامن کی سندھ حکومت میں ڈیپوٹیشن میں توسیع
29 نومبر ، 2025
اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) وفاقی بیورو کریسی میں تقرر و تبادلوں اور کئی افسروں کے ڈیپوٹیشن میں توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔ سندھ حکومت میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کا مرس اینڈ ٹریڈ گروپ کے گریڈ 18 کے افسر حیدر ضامن کی سندھ حکومت میں ڈیپوٹیشن میں دو سال کی توسیع کی گئی ہے۔فیڈر ل گورنمنٹ ایمپلائز ہا ئوسنگ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عفنان سعید کو تبدیل کرکے ڈیپوٹیشن پر فیصل آ باد ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ڈپٹی دائریکٹر ٹائون پلاننگ تعینات کیا گیا ہے۔ان کی تعیناتی تین سال کیلئے ڈیپوٹیشن پر کی گئی ہے۔پاکستان پوسٹ آفس کے اکا ئونٹس افسر عابد حسین کی الیکشن کمیشن آف پا کستان میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتی میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے۔ وہ الیکشن کمیشن میں ڈپٹی ڈائریکٹرپولیٹکل فنانس اینڈ ریگولیشن کے عہدے پر تعینات ہیں۔
=====================
ڈپوٹیشن کی مدت پوری، احکامات کے باوجود پولیس افسران ایف آئی اے میں براجمان
29 نومبر ، 2025
کراچی (نمائندہ خصوصی) محکمہ پولیس سے ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پر آئے بیشتر افسران سرکاری احکامات کے باوجود عہدوں پر براجمان ہیں اور اپنے پیرنٹس محکمے میں واپس رپورٹ نہیں کر رہے۔ اس سلسلے میں عدالتی احکامات موجود ہیں، کئی افسران کی واپسی کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکا ہے تاہم قوانین اور عدالتی فیصلے اثرورسوخ کے آگے بے اثر دکھائی دیتے ہیں، ایک سب انسپکٹرز کی ایف آئی اے میں ڈپوٹیشن کی مدت پورے ہونے پر سندھ پولیس میں واپسی کا نوٹیفکیشن 3اکتوبر 2024کو جاری ہوا۔ جس میں صرف تبادلے کا حکم ہی نہیں بلکہ اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کو افسر کی تنخواہ فوراً روکنے اور متعلقہ محکمے کو ایل پی سی جاری کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے مگر آفس آرڈر کو ایک سال سے زائد گزرنے کے باوجود وہ واپس نہیں گئے۔ واضع رہے کہ سپریم کورٹ کا 22 اکتوبر 2021کا واضح فیصلے موجود ہے کہ کوئی بھی سرکاری افسر مقررہ مدت سے زائد عرصہ ڈیپوٹیشن پر نہیں رہ سکتا۔ مذکورہ افسر تاحال ایف آئی اے کراچی زون میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایک انسپکٹر کا بھی 19 اگست 2025کو واپس اپنے محکمے یعنی سندھ پولیس جانے کے احکامات جاری کئے گئے تاہم موصوف تاحال ایف آئی اے میں براجمان ہیں۔ سندھ پولیس کے سب انسپکٹرز کی 5ستمبر 2025کو ترقیاں ہوئیں۔

====================

طلاق 90دن کی مدت پوری ہونے تک موثر نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ
29 نومبر ، 2025
اسلام آباد – سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت “تین طلاق سمیت کسی بھی شکل میں دی گئی طلاق اس وقت تک موثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے اور یہ کہ اگر خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلا شرط تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی مکمل طور پر حاصل ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کیلئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بنچ نے محمد حسن سلطان کی سیول پٹیشن نمٹا دی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ہائی کورٹ آف سندھ کا 07اکتوبر 2024کا فیصلہ درست قرار پایا۔ عدالت کے مطابق فریقین نے 2016 میں شادی کی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت خاوند نے بیوی (مورِیل شاہ) کو بلا شرط حقِ طلاق تفویض کیا تھا۔ بیوی نے 03 جولائی 2023 کو دفعہ 7(1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 90 دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے 10اگست 2023 کو یہ کارروائی واپس لے لی جس پر چیئرمین یونین/ آربیٹریشن کونسل نے طلاق کارروائی ختم کر دی۔