عمران کی جیل کا حال۔ افواہوں کی ملز


عمران کی جیل کا حال۔ افواہوں کی ملز

عمران کی جیل کا حال۔ افواہوں کی ملز
Imran’s jail situation. The rumors mills | STH
==================

مشیرسیاسی امور سینیٹر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق چہ مگوئیاں غلط ہیں، ان کی صحت بھی ٹھیک ہے اور ڈاکٹرز کی ٹیم معائنہ کرتی ہے۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں نوازشریف کا مطالبہ یقینی طور پر مطالبہ اسٹیبلشمنٹ کے ان کرداروں سے متعلق ہے، جنہوں نے عمران خان پراجیکٹ کو 2011 سے تعمیر کرنا شروع کیا اور 2017-18 میں لانچ کرنے کیلئے سب کچھ کیا گیا۔
آرٹی ایس بٹھایا گیا، مستحکم حکومت کو ہٹایا گیا، نفرت ، کرپشن کی غضب ناک کہانیاں چلوائی گئیں۔ اس کیلئے میڈیا کو ملوث کیا گیا ، میڈیا میں ایسے ایسے کردار متعارف کروائے گئے جنہوں نے اس مقصد کیلئے بڑی محنت کی گئی۔

یہ ساری چیزیں ہماری تاریخ کا ایک حصہ ہے، ان کا مطالبہ جائز ہے۔ نوازشریف کا مطالبہ عمران خان کو سہولت دینے والے کرداروں سے متعلق ہے۔

جن لوگوں نے چلتے اور ترقی کرتے ملک کو غیرمستحکم کیا۔ پھر اگلے چار سال میں ہم ڈیفالٹ تک پہنچے۔ان کرداروں کے خلاف کیا ہورہا ہے، کیا ہوسکتا ہے ، اس پر کوئی بات حتمی طور پر نہیں کی جاسکتی ۔ لیکن ایسا ہونا چاہئے۔ ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ملک کو بہترکیا جائے، ملک کی معاشی ترقی ، مہنگائی میں عوام کے حال میں بہتری لائی جائے۔ پہلے ان چیزوں پر کام ہونا چاہیے پھر باقی چیزیں بھی چلتی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق فیض حمید کا سیاسی یا جمہوری معاملات کو نقصان پہنچانے کا ٹرائل نہیں ہورہا۔ میاں نوازشریف اس حوالے سے کاروائی کی بات کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سزایافتہ بندہ جو جیل میں بیٹھا ہو اوروہ کہے کہ جیل میں بیٹھ کر تحریک چلاؤں گا، اور تحریک کا عنوان ہو کہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد پر حملہ آور ہوں گا، اور دو بار مسلح ہوکر حملہ آور ہوکر بھی دکھایا ہو ، 9مئی جیسا معاملہ بھی ان کے ساتھ جڑا ہے، ایک ٹویٹر اکاؤنٹ بھی ریاست اور حکومت کیخلاف دنیا میں زہر اگل رہا ہو۔
تو پھر ایسی صورت میں ملاقات ، ملاقات رولز میں یہ بھی ہے کہ آپ سیاسی گفتگو نہیں کرسکتے۔عمران خان کی صحت سے متعلق چہ مگوئیاں بالکل غلط ہیں، ان کی صحت ٹھیک ہے اور ان کی صحت کا خیال بھی رکھا جاتا ہے، باقاعدہ ڈاکٹرز کی ٹیم ان کا معائنہ کرتی ہے، ان کی میڈیسن ، خوراک ، ایکسرسائز اور سہولت حاصل ہے۔ عمران خان کی اڈیالہ سے کہیں اور منتقلی بھی نہیں ہوئی۔
وہ اڈیالہ میں ہی موجود ہیں۔ جب منتقلی ہو گی تو عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ میاں نوازشریف کے دوبارہ وزیراعظم بننے سے متعلق کہیں کوئی سوچ نہیں ہے، نوازشریف پارٹی قیادت بھی کررہے ہیں،پنجاب اور وفاقی حکومت کی رہنمائی بھی کررہے ہیں،ان کی کوئی خواہش نہیں ہے، اگر وہ چاہیں تو شہبازشریف وزارت عظمیٰ ان کے قدموں میں رکھنے کو تیار ہوں گے۔

=====================

یومیہ 500 ویزے پروسیس ہورہے ہیں، امارت کے نئے سفیر کی وزیر خزانہ کو بریفنگ، ویزے نہ دیئے جانے کی رپورٹ مسترد

یومیہ 500 ویزے پروسیس ہورہے ہیں، امارت کے نئے سفیر کی وزیر خزانہ کو بریفنگ، ویزے نہ دیئے جانے کی رپورٹ مسترد
اسلام آباد(کامرس رپورٹر ) پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے نئے سفیر سالم ایم سالم البواب الزابی نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کوپاکستانی شہریوں کے لئے یو اے ای حکومت کی اہم ویزا سہولت اصلاحات پر بریفنگ دی، انہوں نے پاکستانیوں کو ویزے نہ دیئے جانے کی رپورٹ مستردکرتے ہوئے بتایا کہ روزانہ تقریباً 500 ویزے پروسیس ہو رہے ہیں اور آن لائن ویزا پروسیسنگ، پاسپورٹ پر اسٹیمپنگ کے بغیر ای ویزا اور پاکستانی اداروں کے ساتھ بہتر سسٹم ٹو سسٹم لنکیج جیسے نئے اقدامات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاکہ کاروباری افراد اور دیگر مسافروں کے لیے سفر کو مزید سہل بنایا جا سکے۔ اماراتی سفیر سے ملاقات کے موقع پر وزیر خزانہ نے کہا کہ یو اے ای کے ساتھ برادرانہ تعلقات مزید گہرا کرنے کیلئے پرعزم ہیں ، بہتر سفری سہولتیں کاروباری روابط کے فروغ کیلئے اہم ہیں۔ اماراتی سفیر نے بتایا کہپاکستان میں نیا قائم کردہ یو اے ای ویزاسینٹربھی پراسیسنگ میں تیزی لانے میں معاون ہوگا۔وزیرخزانہ نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای عالمی سطح پر سرمایہ کاری، تجارتی نمائشوں اور ٹیکنالوجی ایکسپوز کا بڑا مرکز ہے اوراس تناظر میں بہتر سفری سہولتیں کاروباری روابط کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہیں،ملاقات میں دفاعی تعاون، تربیتی تبادلوں اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی عسکری روابط پر بھی بات چیت ہوئی۔قبل ازیںحکام وزارت داخلہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ میں بتایا ہےکہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے نہیں دے رہا،صرف بلیو پاسپورٹ اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزے مل رہے ہیں۔سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر یو اے ای اور سعودی عرب میں پابندی لگتے لگتے بچی ہے، اگر پابندی لگ گئی تو اسے ہٹوانا مشکل ہوگا۔حکام کا کہنا تھا کہ یو اے ای والے ویزا نہیں دے رہے، صرف بلیو پاسپورٹ اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزے مل رہے ہیں۔حکام وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک نےہمارے سسٹم میں مداخلت کی اور پاسپورٹس بنوائے، اس میں ہماری بھی ذمہ داری ہوگی کہ کرپشن ہوئی ہوگی،چند ماہ قبل سعودی عرب سے بڑے پیمانے پر پاکستانی نکالے گئے، ان میں کئی افغان شہری پاکستانی بن کر مقیم تھے۔