
سندھ اسمبلی کی مکمل خبر
کراچی (نامہ نگار خصوصی ) سندھ اسمبلی نے جمعرات کو اپنے اجلاس میں بھارت کے وزیر دفاع کی جانب سے سندھ کو بھارت کا حصہ بنائے جانے والے اشتعال انگیز بیان کے خلاف ایک مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ یہ قرارداد حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی تھی ۔قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے اپنے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دفاع وطن کے معاملے پر پوری قوم کی طرح اس ایوان میں بھی تمام پارلیمانی ارکان متحد ہیں، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ، ہماری مسلح افواج مادر وطن کا دفاع کرنا اچھی طرح سے جانتی ہیں ، حالیہ معرکہ حق میں انہوں نے پوری دنیا کے سامنے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اظہار کردیا ہے، بھارت پوکھلاہٹ کا شکار ہے اسے اپنی سلامتی کی فکر کرنا چاہیے ۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے یہ قرارداد قرارداد پیپلز پارٹی کے رکن اور صوبائی وزیر مکیش چاولہ نے پیش کی۔وزیر پارلیمانی امور ضیا لنجار نے ایوان کو بتایا کہ بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے خلاف حکومت کی جانب سے پیش کردہ مذمتی قرارداد کی اپوزیشن نے بھی حمایت کردی۔ اس لئے اسے مشترکہ قرارداد سمجھا جائے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس کو اپوزیشن کی جانب سے بھی پڑھا جائے تو اچھا ہوجائے گا۔اس موقع پر ایم کیو ایم کے مہیش کمار ہسیجا نے قرارداد پڑھی۔قائد ایوان وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے دفاع کے وزیر نے جو تاثر دیا وہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ قبل مسیح سے بھی پہلے موجود تھا۔ جو قرارداد پیش کی گئی اس میں پوری تاریخ بیان کی گئی ہے ،میں 1947 اور انگریز دور کی بات نہیں کر رہا ۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے قدیمی نقشے میں ملتان اور مکران میں شامل تھا،مسلم لیگ سندھ چیپٹر نے پاکستان کی قرارداد پیش کی تھی ،ہم سب پاکستان بنانے والے یہاں بیٹھے ہیں۔ہمارے بڑوں کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان بنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع نے بوکھلاہٹ کی حالت میں بہت ہی قابل مذمت بیان دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس شخص نے یہ بیان دیا وہ اتر پردیش میں پیدا ہوا ہے اس نے کبھی سندھو کا پانی نہیں پیا ۔اس لیئے اس کا دماغ خراب ہے ۔سندھو کا پانی پینے والا اس دھرتی سے غداری نہیں کر سکتا مگرگندے انڈے ہر جگہ ہو سکتے ہیں۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ پاکستان کا حصہ ہے اور انشاءاللہ ہمیشہ رہے گا ۔انہوں نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ اس قرارداد کو دنیا بھرمیں بھیجے اور بتائے کہ بھارت سندھ دریا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جو پاکستانی قوم اور ہماری بہادر افواج کبھی نہیں ہونے دیں گی۔قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ہم نے معرکہ حق میں بھارت کے ساتھ کیا کیا۔ پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان شر انگیزی پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بھارت سے حیدر آباد دکن اور بہار بھی لیں گے۔ علی خورشیدی نے کہا کہ ہم سیاسی وابستگیاں سے بالا تر ہوکر اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں۔ صوبائی وزیرمحنت سعید غنی نے کہا کہ حالیہ جنگ میں ہماری افواج اور عوام نے بھارت کا بڑی بہادری سے نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ اسے منہ توڑ شکست بھی دی ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی فوج اور معیشت تو بڑی ہوسکتی ہے لیکن لڑنے میں پاکستان کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ مودی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ اپنی قوم کو جنگ کے متعلق بریفنگ دی سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھارت کے مختلف ٹکڑے ہوجائیں گے۔پاکستان ایک ہے، سندھ پاکستان کا حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق
انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ نے جاہلانہ بیان دیا، اس پاگل کو تاریخ کا پتہ ہی نہیں ہے۔ سندھ چھ ہزار سال پرانا خطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ایک آزاد ملک تھا اس کے بعد اپنی مرضی سے صوبہ بنا۔ ہندوستان میں مسلمان کے ساتھ کیا حشر ہوتا ہے سب کو پتہ ہے۔ سردار شاہ نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے بعد کل کو ہم بھی کہہ سکتے ہیں گجرات اور ہریانہ سندھ کا حصہ تھے وہ ہمیں واپس کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ ایم کیو ایم کے رکن محمد وسیم نے بھارت کو مشورہ دیا کہ وہ اب خواب دیکھنا چھوڑ دے اور حقائق کا سامنا کرے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے مئی میں پاکستان نے اس کا کیا حشر کیا اسے ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں آیا کیا ؟ انہوں نے بھارتی وزیر کے بیان کی مذمت بھی کی ۔ پیپلز پارٹی کے رکن گیان چند ایسرانی نے کہا کہ میرا تعلق مینار ٹی سے ہے مجھے اس پر فخر ہے کہ میں یہاں پیدا ہوا میں سندھ میں وزیر ہوں مودی مکمل بوکھلاہٹ کا شکار ہے پاکستان سے ان کو بے انتہا خوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج کے پاس صلاحیت ہے کہ ان کی جارحیت کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ سنی اتحاد کونسل کے ریحان بندوکڑا نے کہا کہ ان کی جماعت بھارتی وزیر کے بیان کی مذمت کرتی ہے۔سندھ پاکستان کے ساتھ ہے کبھی الگ نہیں ہو سکتا۔ ایم کیوایم کے عامر صدیقی نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع بھول گئے ہیں کہ راشد منہاس نے کتنے طیارے گرائے تھے۔ معرکہ حق کے بعدنریندر مودی دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا ہے ۔ عامر صدیقی نے کہا کہ بھارت کے پاس کوئی بیانیہ نہیں بچا تو یہ لوگ میڈیا مہم کے لیے ایسے بے تکے بیانات دے دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ انڈیا تنہائی اور بوکلاہٹ کا شکار ہے۔ یہ انڈیا کا احمقانہ بیان ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ وہ صوبہ ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔ مودی آپ اپنی فکر کریں ہمیں چھوڑیں۔ دبئی میں انڈیا کا طیارہ ایئر شو کے دوران گر گیا۔ بعدازاںسندھ اسمبلی نے بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔قرارداد میںحکومت پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ
اس قراداد کو ر دنیا بھر کو بھیجے اور بتایا جائے کہ بھارت سندھو دریا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی فورمز پر بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی مذمت کی جائے۔ بعدازاںسندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
کراچی (نامہ نگار خصوصی )سندھ اسمبلی نے جمعرات کو اپنے اجلاس میںسندھ بورڈز آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کا ترمیمی بل 2025 پھر سے منظور کر لیا ۔ بل پر گورنر سندھ نے اعتراض لگایا تھا۔ گورنر کے اعتراض کے بعد اسمبلی نے بل کی دوبارہ منظوری دیدی۔ بل وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے ایوان میں پیش کیا۔ بل کی منظوری کے موقع پر جماعت اسلامی کے رکن فاروق احمدنے اعتراض کیا کہ بل کی کاپی ملنی چاہیے تھی وہ ارکان کو نہیں ملی ۔اس بل میں ترمیم کے ذریعے کون سے شقیں شامل کی گئی ہیں ارکان کو کچھ نہیں پتہ ۔یہ بل بھی دوبارہ مکمل شکل میں ایوان میں پیش ہونا چاہیے تھا۔ ایوان کی کارروائی کے دوران جمعرات کو ارکان کی جانب سے کئی توجہ دلاﺅ نوٹس بھی پیش کئے گئے تھے جن میں شہر میں ڈینگی کے پھیلاﺅ سمیت بعض دوسرے عوامی اہمیت کے حامل امور کی نشاندہی کی گئی تھی۔
کراچی (نامہ نگار خصوصی ) سندھ کے وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کا محکمہ اپنے محدود مالی وسائل کے باوجود صوبے کے فنکاروں کی ہر ممکن مدد کررہا ہے , صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے کام جاری ہے۔ وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی میں محکمہ ثقافت سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔ ذوالفقار شاہ نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق براہ راست فنڈنگ نہیں کرتا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں وزارتیں تقسیم ہوئی تھیں۔ ایم کیو ایم کے رکن عبدالوسیم نے نشاندہی کی کہ جہاں پر سیاح آتے ہیں وہاں پر سہولیات مکمل نہیں ہیں۔ ذوالفقار علی شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سیاحت کے وزارت کا بجٹ بہت کم ہے۔ اب ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ تحت کام کر رہے ہیں۔ ذوالفقار علی شاہ موہن جو دڑو سے جو اشیائ ملی ہیں وہ محفوظ ہیں اور بہت سی قدیم اشیائ سندھ میوزیم اور نیشنل میوزیم میں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل میوزیم اس وقت وفاق کے پاس ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ محکمہ سیاحت کا سالانہ مجموعی بجٹ پندرہ کروڑ روپے کا ہے جس میں تنخواہیں بھی شامل ہیں ، وزیر سیاحت زوالفقار شاہ نے وزیراعلی سندھ سے درخواست کءہے کہ سیاحت کے لئے بجٹ بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے محکمہ کو کوئی اسپیشل گرانٹ نہیں دی جاتی۔، وزیر ثقافت سندھ نے کہا کہ عمران خان دور حکومت میں نیشنل میوزیم کا کنٹرول سندھ سے لیا گیاتھاہمارے وہ ساتھی جو وفاق میں حکومت میں ہیں سندھ میوزیم واپس دلوانے کے لئے ملکر کوشش کریں ۔ ذوالفقار علی شاہ نے بتایا کہ سندھ کے مختلف مقامات پر نئی لائبریریاں بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن فنکاروں کی مدد ہوتی ہے چیک ان کے اکاو¿نٹس میں جاتے ہیں۔امدادی رقم کی فراہمی میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی گڑ بڑ ثابت کرے تو استعفیٰ دینے کے لیئے تیار ہوں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی ترجیح نہیں کہ مرد یا عورت فنکار ہو،جس کسی بھی فنکار کی درخواست آتی ہے اس کی مدد کی جاتی ہے۔























