آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025“ کے 27ویں روز میوزک ورکشاپ، فلم اسکریننگ، فلمی نشست اور دو تھیٹر پلے پیش کردیے گئے


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025“ کے 27ویں روز میوزک ورکشاپ، فلم اسکریننگ، فلمی نشست اور دو تھیٹر پلے پیش کردیے گئے
فیسٹیول کے 27ویں روز تھیٹر پلے ”جون اور میں“ اور ”Kawaida Nzuri“ شائقین کی توجہ کا مرکز
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025“ کے 27ویں روز میوزک ورکشاپ، فلم اسکریننگ، فلمی نشست اور دو تھیٹر پلے پیش کیے گئے جن میں پیرزادہ سلمان کا ”جون اور میں“ اور یوگنڈا کی جانب سے تھیٹر پلے ”Kawaida Nzuri “ شامل تھے جبکہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور ”ٹریولنگ فلم فیسٹیول“ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور فلم ساﺅتھ ایشیا کے چیئرمین کنک مانی ڈکشٹ نے دستخط کیے۔ فیسٹیول کے 27ویں روز کا آغاز امریکہ کے موسیقار ” رضوان جگانی“ کی میوزک ورکشاپ سے کیا گیا جس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ ، احسن باری ، ارمان رحیم ،مزمل ،استاد محمود خان سمیت طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تربیتی ورکشاپ میں معروف موسیقار رضوان جگانی نے آلہ موسیقی( وائلا) کے ذریعے طلباءکو جدید تکنیک کے بارے میں بتا۔ اس موقع پر رضوان جگانی نے کہاکہ میرے لیے وائلا ایک فن ہے، اس کو صحیح طرح پکڑنا ضروری ہوتا ہے، انہوں نے بتایا کہ ٹون پویم سمفی کی طرح ہوتا ہے مگر یہ ایک ہی مکمل دھن ہوتی ہے، ورکشاپ میں رضوان جگانی کے ہمراہ آرٹس کونسل میوزک اکیڈمی کے کاظم اور ثمرین نے بھی پرفارم کیا۔Francophone African Features کے نام سے فلم اسکریننگ ہوئی جس میں موروکو، نیپال اور ایوری کوسٹ کی جانب سے تین مختصر فلمیں پیش کی گئی۔ ایوری کوسٹ کی جانب سے فلم Amlan دکھائی گئی جس کے ڈائریکٹر OHOUOT ASSI GILBERT PHILIPPEتھے ،موروکو نے فلم Wound of the Pastپیش کی جس کے ڈائریکٹر Ziyad Chejai تھے ، جبکہ تیسری فلم نیپال کی جانب سے Seige in the airپیش کی گئی۔فیسٹیول میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور ”ٹریولنگ فلم فیسٹیول“ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کے حوالے سے نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور فلم ساﺅتھ ایشیا کے چیئرمین کنک مانی ڈکشٹ نے اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ نیپال اور پاکستان قریبی دوست ہیں، ہم نے آفیشل ایم اویو سائن کیا ہے ، فلم فیسٹیول پوری دنیا میں ہوتا ہے اب پاکستان میں بھی ہوگا، آرٹس کونسل سے بھی فنکار نیپال جائیں گے۔فن و ثقافت لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا واحد ذریعہ ہے، انہوں نے کہاکہ ہماری ایک فلائٹ براہ راست پاکستان سے نیپال دو دن بھی چلے تو آسانی ہوگی، میں وزیراعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ پاکستان سے نیپال ہوائی جہاز سروس کو بحال کیا جائے، فلم ساﺅتھ ایشیا کے چیئرمین کنک مانی ڈکشٹ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ نیپال اور پاکستان ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں، انیس سو پچاس میں جہاز کے ذریعے نیپال اور پاکستان کا سفر طے کیا جاتا تھا جو اب نہیں ہوتا۔ نیپال اور پاکستان کی حکومت کو ہوائی جہاز کی سہولت دوبارہ مہیا کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے، یہ ایک خاص فیسٹیول ہے جو کراچی میں ہو رہا ہے، آرٹس کونسل کے ساتھ ایم او سائن کرکے میں بہت خوشی محسوس کررہا ہوں ، اتنا بڑا فیسٹیول کرنا آسان کام نہیں ہے، پاکستان کے معروف صحافی ، مصنف و ہدایت کار پیرزادہ سلمان نے تھیٹر پلے ” جون اور میں“ پیش کیا جو اردو کے عظیم شاعر جون ایلیا کی پراسرار شخصیت کے بارے میں تھا، انہوں نے تھیٹر میں دکھایا کہ آپ جس حد تک پہنچ جائیں مگر ایک تخلیقی انسان کی شخصیت کے بارے میں کبھی نہیں جان سکتے۔انہوں نے جون ایلیاءکے ساتھ 90کی دہائی میں بیتے لمحات کو حاضرین کے سامنے پیش کیا جبکہ ہال میں بیٹھے لوگوں نے تھیٹر کی مختصر اور بھرپور کہانی کو بے حد پسند کیا اور تالیاں بجاکر خوب داد دی۔فیسٹیول کا اختتام یوگنڈا کی جانب سے پیش کیے گئے تھیٹر پلے ” Kawaida Nzuri “پر ہوا جس کے ڈائریکٹر Philip Luswata تھے جبکہ فنکاروں میں Keith Divine، Walter Asiku، Juma Kayondo، Shanitah Akandinda اور Viola Najjukoشامل تھے۔ تھیٹر کی کہانی ایڈریان نامی مقبول اداکار کے گرد گھومتی ہے مگر اب سوشل میڈیا اور سطحی مشغلوں میں ڈوبی ہوئی دنیا سے مایوس ہوکر وہ تھیٹر کی اہمیت اور اس میں اپنے کردار دونوں پر سوال اٹھاتا نظر آتا ہے۔ واضح رہے کہ ورلڈ کلچر فیسٹیول 7دسمبر 2025تک آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری رہے گا جبکہ 7 دسمبر کو معروف گلوکار راحت فتح علی خان پرفارم کریں گے۔ ممبران آرٹس کونسل دوپہر 12سے رات 8 بجے تک بائیومیٹرک آفس ،احمد شاہ بلڈنگ ، آرٹس کونسل سے فری ٹکٹ حاصل کرسکتے ہیں۔
with Best Regard’s
sajid ali