
کراچی، 26 نومبر 2025 —
ادارۂ خوراک و زراعت اقوامِ متحدہ پاکستان نے یورپی یونین اور حکومتِ سندھ کے تعاون سے عمرکوٹ اور تھرپارکر میں جاری چار سالہ پراجیکٹ برائے استعدادِ مویشی پرور افراد کی تکمیل کا اعلان کیا، جس سے مجموعی طور پر دو لاکھ سے زائد افراد اور چھوٹے کاشتکاروں کے 48 ہزار دو سو پانچ گھرانے براہ راست مستفید ہوئے۔
یہ منصوبہ غذائی تحفظ کو بہتر بنانے اور دیہی آبادی کی موسمی و معاشی مشکلات کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کے مقصد کے تحت شروع کیا گیا تھا، جس کے دوران 14 ہزار گھرانوں کو پیداواری مدد فراہم کی گئی، تین ہزار گھرانوں میں مویشیوں کی نسل بہتر بنانے کے اقدامات کیے گئے، سات لاکھ پانچ ہزار مویشیوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے اور کمزور خاندانوں کی معاونت کے لیے جانوروں کے چارے اور معدنی سپلیمنٹس فراہم کیے گئے۔ اسی طرح آٹھ ہزار نو سو ستر کسانوں کو تربیتی فیلڈ اسکولوں کے ذریعے عملی رہنمائی دی گئی، کمیونٹیز کی سطح پر دس مارکیٹنگ گروپ قائم کیے گئے، جبکہ چودہ ہزار چار سو تئیس ہیکٹر زرعی زمین کو بہتر بنانے اور سات سو ایکڑ چراگاہوں کی مقامی گھاس اور درختوں کے ذریعے بحالی کا عمل مکمل کیا گیا، جس سے مقامی ماحول اور معاش کے ذرائع کو تقویت ملی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس نے کہا کہ یہ منصوبہ دیہی آبادی کی بحالی اور لچک میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا اور 2022 کے سیلاب کے بعد کیے گئے امدادی اقدامات کا حصہ تھا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس منصوبے نے متعلقہ کمیونٹیز کی مشکلات کے مقابلے کی اہلیت میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔
ادارۂ خوراک و زراعت اقوامِ متحدہ پاکستان کی جانب سے جیمز اوکوتھ نے کہا کہ اس منصوبے نے مشکل حالات میں خاندانوں کو خوراک کی پیداوار جاری رکھنے اور اپنے روزگار کے ذرائع محفوظ بنانے میں مدد دی، جبکہ تربیت، مہارت اور کمیونٹی ڈھانچوں نے مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارۂ خوراک و زراعت اقوامِ متحدہ پاکستان سندھ میں موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ حکومتِ سندھ نجّم احمد شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے کے تحت متعارف کرائے گئے طریقوں اور عملی اقدامات کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور انہیں سندھ کی زرعی ترقی کی ترجیحات کے مطابق قرار دیا۔
اختتامی تقریب میں منصوبے کی کامیابیوں پر مبنی ویڈیو پیش کی گئی، کمیونٹیز کے تاثرات سنے گئے اور تصویری نمائش کے ذریعے اہم مراحل اور تبدیلیوں کو اجاگر کیا گیا، جبکہ شرکا نے پائیدار اور لچکدار زرعی نظام کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔























