کیا آصف زرداری کو کارنر کرنا ممکن ہے؟ کیا پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کے قریب جا رہی ہے؟ | امداد سومرو


کیا آصف زرداری کو کارنر کرنا ممکن ہے؟ کیا پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کے قریب جا رہی ہے؟ | امداد سومرو

کیا آصف زرداری کو کارنر کرنا ممکن ہے؟ کیا پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کے قریب جا رہی ہے؟ | امداد سومرو
Is it Possible to Corner Asif Zardari?? Is PPP going Close to PTI? | Imdad Soomro
===================

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہم خود فیصلے نہیں کرسکتے، ہمارے فیصلے غیروں کے ہاتھ میں ہیں، یہ فیصلے ہم نے نہیں تحریک انصاف نے غیروں کے ہاتھ میں دیئے، ورنہ آج پتہ نہیں ہم کہاں پہنچے ہوتے۔ ضمنی الیکشن میں نو منتخب ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں جھوٹ، گالم گلوچ، بدتمیزی، بدتہذیبی اور فتنے کو شکست ہوئی ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کی ڈیڑھ سال میں خدمت کی وجہ سے ضمنی انتخابات میں کامیابی ملی، پی ٹی آئی نے کہا ہم الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے، بائیکاٹ ایسے ہوتا ہے، عمر ایوب کی اہلیہ الیکشن لڑ رہی تھی لیکن عوام نے ووٹ کارکردگی کی بنیاد پر دیا، شہباز شریف اور مریم نواز کو شاباش دیتا ہوں جنہوں نے محنت سے کام کرکے وہ مقام حاصل کیا جو ہم نے کھو دیا تھا، پاکستان اڑان بھر چکا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ دوسروں کو چور ڈاکو کہنے والے خود چور ثابت ہوئے، 2017ء میں ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا، انہوں نے ملک کا جو حال کیا پوری قوم بھگت رہی ہے، 2017ء میں ملک کہاں جا رہا تھا اور کہاں چلا گیا؟ آپ سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، گروتھ ریٹ بڑھ رہا تھا، مہنگائی 3 فیصد تھی اور اسے 39 فیصد تک لے جایا گیا جو اب 4 فیصد پر آ گئی ہے لیکن روپے کی جو حالت کی گئی اس کا خمیازہ آج ہر پاکستانی بھگت رہا ہے، عمران خان اکیلا نہیں بلکہ اُس کو لانے والے بھی مجرم ہیں۔
نوازشریف کہتے ہیں کہ اگر 2017ء والی ترقی کی رفتاری جاری رہتی تو آج آئی ایم ایف کی فکر نہ ہوتی، ن لیگ کے جانے کے بعد بہت تباہی ہوئی، ملک کا ستیاناس کردیا گیا، عمران خان اتنا مجرم نہیں تھا ان کو لانے والے زیادہ مجرم تھے، ان سے بھی پورا پورا حساب لینا چاہیئے، ضمنی انتخابات میں عوام نے ن لیگ کو عزت دی اور اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے، مریم نواز اور شہباز شریف مجھ سے بھی آگے گزر گئے ہیں۔
=====================

وزیراعظم شہباز شریف کی بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے ملاقات کی۔ مناما میں قصر القضیبیہ پہنچنے پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنرپیش کیا گیا۔

وزیراعظم نے پرتپاک استقبال پر شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ کا شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے میں بحرین کی قیادت کو سراہا۔

انھوں نے بحرین کو یواین سلامتی کونسل کی 2 سالہ مدت کیلئے غیر مستقل رکنیت حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔

ملاقات میں اقتصادی تعاون پر گفتگو ہوئی، وزیراعظم نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے امکانات کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان تجارت کو 3 سال میں ایک ارب ڈالر تک لے جایا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ہدف کا حصول پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہے جو اپنے حتمی مراحل میں ہے۔

وزیراعظم نے کراچی، گوادر اور خلیفہ بن سلمان پورٹ کے درمیان بندرگاہ سے بندرگاہ تک رابطے بڑھانے کی تجویز دی۔ وزیراعظم نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانی کمیونٹی کیلئے بحرین کی حمایت کو تسلیم کیا۔

انھوں نے اسلام آباد میں کنگ حمد یونیورسٹی کی تعمیر پر بحرین حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے پاکستانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی میں سہولت پر بحرین کا شکریہ ادا کیا۔

ملاقات میں دفاعی اور سیکیورٹی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور فریقین نے تربیت، سائبر سیکیورٹی، دفاعی پیداوار اور معلومات کے تبادلے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے غزہ کی حالیہ پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اتفاق کیا کہ غزہ کے عوام کیلئے امن و استحکام کا قیام انتہائی خوش آئند ہے۔