سندھ اسمبلی نے اپنے اجلاس میں سابق اسپیکر آغا سراج درانی ، سابق وزیر اعلیٰ سندھ آفتاب شعبان میرانی، سابق ارکان سندھ اسمبلی لال بخش بھٹو اور علی مراداجڑ کی وفات پر الگ الگ تعزیتی قراردیں منظور کرلیںجن میں مرحومین کی خدمات پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

سندھ اسمبلی کی مکمل خبر

کراچی (نامہ نگار خصوصی ) سندھ اسمبلی نے اپنے اجلاس میں سابق اسپیکر آغا سراج درانی ، سابق وزیر اعلیٰ سندھ آفتاب شعبان میرانی، سابق ارکان سندھ اسمبلی لال بخش بھٹو اور علی مراداجڑ کی وفات پر الگ الگ تعزیتی قراردیں منظور کرلیںجن میں مرحومین کی خدمات پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔یہ چاروں تعزیتی قرارددادیں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیش کی تھیں۔بدھ کو سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک اور فاتحہ خوانی کے بعد قائد ایوان سید مراد علی شاہ نے اسپیکر کی توجہ اس جانب دلائی کہ حال ہی میں سندھ اسمبلی کے سابق اسپیکر آغا سراج درانی ، سابق وزیر اعلیٰ آفتاب شعبان میرانی اور دو ارکان سندھ اسمبلی لال بخش بھٹو اورعلی مراد راجڑ وفات پاچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کی یہ روایت رہی ہے کہ جب کوئی موجودہ رکن اسمبلی وفات پاجاتا ہے تو ایوان کے پہلے روز کی کارروائی اس کے احترام میں ملتوی کردی جاتی ہے ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اسپیکر کی اجازت سے مذکورہ ارکان کے انتقال پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے الگ الگ تعزیتی قراردیں ایوان میں پڑھ کر سنائیں۔بعدازاں ان قراردادوں پر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے بھی اظہار خیا ل کیا ۔ بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے تعزیتی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آغا سراج درانی 1988 سے لیکر کئی بار صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ ان کے والد بھی اسپیکر سندھ اسمبلی رہے۔ آغا سراج درانی گیارہ سال اسمبلی کے اسپیکر رہے۔ مرحوم اپنی خوش مزاجی سے سب کو راضی رکھتے تھے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں جب پہلی بار وزیر بنا تھا تو آغا سراج کے ساتھ میری سیٹ ہوتی تھی، ان سے کافی کچھ سیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی اگر اسمبلی میں گرما گرمی ہوتی تھی تو آغا صاحب کھڑے ہوتے تھے تو ماحول بدل جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آفتاب شعبان میرانی کے لیے بات کرنا بہت مشکل کام ہے اورمیں ایک چھوٹا آدمی ہوں۔ آفتاب شعبان میرانی کے والد اور والدہ بھی رکن سندھ رہے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ آفتاب شعبان میرانی 1977 میں پہلی مرتبہ رکن اسمبلی بنے۔ آمریت کے دور میں میرانی صاحب محترمہ بینظیر بھٹو کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ نوے کے دہائی سے مسلسل قومی اسمبل کے ممبر بنتے رہے ہیں۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لال بخش بھٹو پارٹی کے پرانے ورکر تھے۔ لال بخش بھٹو وفات تک پارٹی کے لیے کام کرتے رہے۔ لال بخش بھٹو کو اللہ جنت میں جگہ دے۔ انہوں نے کہا کہ علی مراد راجڑ بھی میرے ساتھی رہے ہیں، وہ اپنے علاقے کے لوگوں کی ہمیشہ آواز اٹھاتے تھے۔ علی مراد راجڑ ہمیشہ اپنے لوگوں کے لیے پریشان رہتے تھے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے راشد خان نے کہا کہ آغا سراج درانی بہت اچھی آدمی تھے۔ آغا صاحب اپوزیشن کو بھی اچھی طرح چلاتے تھے، بزرگوں کی طرح خیال رکھتے تھے۔ اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ میں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایم کیو ایم کے رکن صابر قائمخانی نے کہا کہ آغا صاحب خوش مزاج اور خوش لباس شخص تھے۔ اسمبلی میں پہلے میلاد کا انعقاد آغا سراج درانی نے نے کیا تھا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آغا سراج کے درجات بلند کرے ۔انہوں نے کہا کہ آفتاب شعبان میرانی سے قومی اسمبلی میں ساتھ رہا ہے وہ بھی بہت نفیس انسان تھے ۔ ان لوگوں کا کردار ایسا تھا تو ان کے مخالفین بھی ان کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی خاتون رکن بلقیس مختار نے کہا کہ آغا سراج درانی گرم ماحول کو ٹھنڈا کرتے تھے، اپوزیشن کو فیور کرتے تھےاللہ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے۔ جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ آفتاب شعبان میرانی، آغا سراج درانی اور لال بخش بھٹو کی مغفرت کے لیے دعاگو ہوں۔ موت کا ذائقہ سب نے چکھنا ہے۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ آغا سراج درانی اسمبلی میں میرے ساتھ بیٹھتے تھے۔ آج ان کی سیٹ خالی پڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آغا سراج میرے 1988 کے دوست تھے۔ سراج درانی کو اپنی ثقافت اور کمیونٹی سے محبت کرتے تھے۔ مرحوم جیلوں سے کبھی خائف نہیں ہوئے، وہ جیل سے آکر اجلاس اٹینڈ کرتے تھے۔ کسی زمانے میں قائم علی شاہ بھی جیل سے اجلاس میں آتے تھے۔ آغا سراج درانی اس دنیا سے مسکراتے مسکراتے چلے گئے۔ انہوں نے آفتاب شعبان میرانی سے متعلق کہا کہ وہ بہت آہستہ اور پیار سے بولتے تھے۔
آفتاب شعبان ایسا لگتا تھا کہ وہ بینظیر صاحبہ کے فیملی ممبر ہوں۔ پیپلز پارٹی کے امداد پتافی نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک فیملی ہے۔ آغا سراج درانی ہمارے سینئر تھے، 2025 تک ان کے ساتھ بہت اچھا وقت گذارا۔ میں سلام پیش کرتا ہوں جیسے انہوں نے اسمبلی چلائی۔ پی ٹی آئی کے شبیر قریشی نے کہا کہ آغا سراج درانی کی کرسی آج خالی پڑی ہوئی ہے۔ آخری اجلاس میں سراج درانی شریک ہوئے تھے۔ آغا سراج درانی خاندانی آدمی تھے، آغا صاحب خوش اخلاقی سے تمام اراکین کو چلاتے تھے۔ پیپلز پارٹی کی رکن سیما گلزار نے کہا کہ میرے والد آفتاب شعبان میرانی پیپلز پارٹی کے ساتھ بہت سچے تھے۔ لوگوں کے کام آتے تھے۔ آخری دنوں میں بھی لوگوں کے کام کرتے تھے۔ بعدازاں ایوان نے آغا سراج درانی، آفتاب شعبان میرانی، لال بخش بھٹو اور علی مراد راجڑ کی تعزیتی قرارداد ادیں متفقہ طور پر منظور کرلیں جس کے بعدسندھ اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔