
آئی جی سندھ کا SIEHS–1122 ہیڈ آفس کا دورہ، ایمرجنسی رسپانس نظام میں قریبی تعاون پر اتفاق
کراچی (اسٹاف رپورٹر): انسپکٹر جنرل پولیس سندھ، غلام نبی میمن، پی ایس پی نے بدھ کے روز اپنی کور ٹیم کے ہمراہ Sindh Integrated Emergency & Health Services (SIEHS–1122) کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں انہیں ادارے کی کارکردگی، صوبے بھر میں رسائی اور قبل از اسپتال ایمرجنسی نظام پر بریفنگ دی گئی۔
وفد کا استقبال بریگیڈیئر (ر) طارق قدیر لاکھیار، سی ای او SIEHS، اور سینئر مینجمنٹ نے کیا۔ بتایا گیا کہ SIEHS محکمہ صحت، حکومتِ سندھ کے تعاون سے 1122 ایمبولینس سروس چلاتا ہے، جو صوبے کے مختلف اضلاع میں عوام کو وقت پر اور بلا معاوضہ ایمرجنسی طبی مدد فراہم کرتی ہے۔

آئی جی سندھ اور ان کی ٹیم کو کنٹرول روم کے کام، ایمرجنسی کالز کی ہینڈلنگ، ایمبولینس ڈسپیچ اور موقع پر طبی امداد کے مکمل نظام سے آگاہ کیا گیا۔ بعد ازاں وفد نے فلیٹ ایریا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایڈوانس لائف سپورٹ ایمبولینسز، ریپڈ ریسپانس موٹر بائیکس، ماؤنٹین بائیکس اور دور دراز آبی علاقوں کے لیے تیار کی جانے والی بوٹ ایمبولینس کا ماڈل دیکھا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ سنگین واقعات میں پولیس اور میڈیکل ریسپانس اکثر ایک ہی وقت میں عوام کے سامنے پہنچتے ہیں۔

انہوں نے کہا:
“زیادہ تر سنگین کیسز میں پولیس موبائل اور ایمبولینس تقریباً ایک ساتھ پہنچتے ہیں۔ اگر دونوں ٹیمیں پیشہ ورانہ انداز اور ہمدردی کے ساتھ کام کریں تو لوگوں کو واضح پیغام ملتا ہے کہ ریاست ان کے مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔”

دورے کے دوران ہائی ویز اور مصروف شاہراہوں پر ایمبولینسز کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت، ہائی رسک واقعات میں پولیس کی معاونت اور بڑے حادثات کے دوران معلومات کے تیز تبادلے پر بھی گفتگو ہوئی۔
بریگیڈیئر (ر) طارق قدیر لاکھیار نے آئی جی سندھ کا فیلڈ اسٹاف سے تعارف کرایا اور فلیٹ کی تکنیکی و طبی صلاحیتوں پر بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کی صورتحال میں پولیس اور 1122 کی ٹیمیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں، اور یہی تعاون بروقت ریسپانس کو ممکن بناتا ہے۔

انہوں نے کہا:
“ہمارے ریسپانڈرز اکثر پولیس کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ اگر ہمارا باہمی تعاون مزید مضبوط ہوگا تو سندھ کے لوگوں تک مدد نہ صرف جلد بلکہ زیادہ منظم انداز میں پہنچ سکے گی۔”
دورہ اس اتفاقِ رائے پر اختتام پذیر ہوا کہ دونوں ادارے مشترکہ مشقوں، تربیتی پروگراموں اور بہتر کوآرڈی نیشن کے ذریعے صوبے میں ایمرجنسی رسپانس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔























