بڑ بولا پن ہندوستان کی لٹیا ڈبو دے گا:پاسبان سندھ پاکستان کا تسلیم شدہ حصہ ہے اور کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا:رفیق خاصخیلی

بڑ بولا پن ہندوستان کی لٹیا ڈبو دے گا:پاسبان
سندھ پاکستان کا تسلیم شدہ حصہ ہے اور کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا:رفیق خاصخیلی
پاکستان کی طرف میلی آنکھوں سے دیکھنے والوں کو دھول چٹادیں گے
بھارت اشتعال انگیزی سے پرہیز کرے،اب جنگ چھڑی تو ہم دہلی تک جائیں گے
مودی سرکار پاکستان کے بجائے اپنے ملک میں اٹھنے والی آزادی کی انیس تحریکوں کو سنبھالے

کراچی ( )پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین رفیق خاصخیلی نے بھارتی وزیر دفاع کے سندھ کو بھارت کا حصہ قرار دیئے جانے کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ پاکستان کا تسلیم شدہ حصہ ہے اور کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ وزیر دفاع دن میں خواب دیکھ رہے ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ نہرو کا تسلیم کردہ تقسیم ہند کا فارمولا نہیں مانتے ہیں۔ اس قسم کے بیانات دے کر بھارت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کشمیر، حیدر آباد دکن، جونا گڑھ اور دوسرے اسٹیٹس تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے اور پاکستان کے حصے میں آنا چاہیے۔ دنیا جانتی ہے کہ ان اسٹیٹس کی آزاد حیثیت پر ضرب لگاتے ہوئے بھارتی فوجیں ان پر زبردستی قابض ہوئیں تھیں۔ بھارت اشتعال انگیزی سے پرہیز کرے ورنہ پاکستان انصاف کے حصول کے لئے عالمی عدالت میں جا سکتا ہے۔پاکستان کی طرف میلی آنکھوں سے دیکھنے والوں کو ہم دھول چٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارتی فوج میں صلاحیت نہیں ہے کہ پاکستان کا مقابلہ کر سکے۔ اب اگر جنگ چھیڑی گئی تو ہم دہلی تک جائیں گے۔پاکستان نے بارہا ہاتھ ملایا ہے جسے ہندوستان جھٹک دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑ بولا پن ہندوستان کی لٹیا ڈبو دے گا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ان پر ملازمتوں اور تعلیم کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں۔ اردو کو مٹا کر زبردستی ہندی کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ بھارت نے بابری مسجد اور گرجاوں کو ناجائز مسمار کیا ہے۔ پورے ہندوستان میں کسی جامعہ کا وائس چانسلر مسلمان نہیں ہے۔ سول سروسز میں مسلمانوں کا داخلہ بند ہے۔ کوئی مسلمان آواز اٹھائے تو اسے غائب کر دیا جاتا ہے۔ بھارت میں تیس کروڑ مسلمان ہیں لیکن مودی اسے زبردستی ہندو اسٹیٹ بنانا چاہتا ہے۔ تقسیم سے قبل بھی ہندو مسلم تفرقے کا بیج ہندوؤں نے بویا تھا۔ مسلمانوں کے دور حکومت میں جنگیں ہوئی ہیں لیکن ہندو مسلم فساد نہیں ہوا ہے۔ یہ دور برطانیہ کا تحفہ ہے جسے ہندوؤں نے جان سے چمٹا لیا ہے۔ مسلمان حکمرانوں کی نفرت انگیز اور جھوٹی تصاویر دکھانا بھارتی ڈراموں اور فلموں کا طرہ امتیاز بن گیا ہے۔ مسلمانوں نے ہندوستان فتح کرکے امن و امان قائم کیا تھا۔ ہزار سالہ دور کے سارے تاریخ دان معترف ہیں۔ مسلمانوں کے دور سے اچھا دور سارے ہندوستان میں نہ پہلے آیا اور نہ بعد میں۔ ہندوستان کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے اتحاد سے تکلیف ہورہی ہے۔ بھس میں چنگاری ڈالنے کی بجائے بی جمالو اپنے ملک میں اٹھنے والی آزادی کی انیس تحریکوں کو سنبھالے۔ مودی کی سیاست کی بنیاد نفرت ہے۔ اس سے اور اس کی ٹیم سے وہاں کی اقلیتوں کو کسی خیر کی توقع نہیں ہے۔ ہندوستان ایدونچرزم سے باز رہے ورنہ منہ کی کھائے گا اور دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا#