مختصر ویڈیوز اور مسلسل اسکرولنگ صحت کیلئے خطرناک ہو سکتی ہے

سوشل میڈیا پر مختصر ویڈیوز دیکھنے اور مسلسل اسکرولنگ اب عام عادت بنتی جا رہی ہے، مگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن (APA) کی نئی تحقیق کے مطابق ٹک ٹاک سمیت مختصر ویڈیوز والی ایپس کا حد سے زیادہ استعمال دماغی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے، جسے عام طور پر برین راٹ کہا جاتا ہے۔

تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ محض ایک مذاق یا سوشل میڈیا کا لفظ نہیں بلکہ ایک حقیقی نیوروکگنیٹو سینڈروم ہے جو دماغی صلاحیتوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ Feeds, Feelings and Focus کے نام سے جاری اس مطالعے میں 71 تحقیقی رپورٹس اور 98 ہزار سے زائد افراد کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔

نتائج کے مطابق مختصر ویڈیوز دیکھنے کا بڑھتا ہوا رجحان توجہ برقرار رکھنے کی صلاحیت اور دماغ کے کنٹرول کو کمزور کرتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ نوجوان روزانہ اوسطاً 6.5 گھنٹے آن لائن مواد استعمال کرتے ہیں۔

مختصر ویڈیوز دماغ پر کیسے اثر ڈالتی ہیں؟

مطالعے کے مطابق ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز اور یوٹیوب شارٹس جیسی ویڈیوز دماغ کو سست بناتی ہیں، جس سے پڑھائی، مسئلے حل کرنے اور نئی چیزیں سیکھنے میں دلچسپی کم ہونے لگتی ہے۔ مسلسل اسکرولنگ کرنے والے افراد عام سرگرمیوں سے بے حسی کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کا انتباہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ صرف توجہ میں کمی ہی مسئلہ نہیں، بلکہ مختصر ویڈیوز کا زیادہ استعمال مجموعی دماغی صحت، روزمرہ رویوں اور کارکردگی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس عادت پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں اس کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ محسوس کریں کہ آپ کی توجہ کم ہو رہی ہے یا دماغ جلد تھک جاتا ہے، تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کچھ دیر کے لیے فون ایک طرف رکھ دیں اور کتاب پڑھنے یا ذہنی مشقت والے کسی کام کی طرف واپس آئیں۔ یہ چھوٹی سی تبدیلی دماغی صحت کو بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔