
راولپنڈی ( ) ہمیں اقبال کی فکری راہنمائی میں وہ راستے اور وہ منزلیں تلاش کرنی ہیں جہاں اللہ تعالی کی قربت، انسانیت کو معراج اور اقوام کو عزت کے ساتھ دوام ملتا ہے. ترکی، ایران اور جرمنی اقبالی فکر پر عمل پیرا ہو کر ترقی کرگئے مگر ہم نے اقبال کے عظیم فکری اثاثے کوکہیں استعمال نہیں کیا.ہماری سیاسی قیادت عمل پیہم اور خودی کے اقبالی درس پر عمل پیرا ہونے کی بجائے امریکہ کی رضا حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے جبکہ اقبال صرف غریبوں اور مسکینوں کیلئے رہ گیا ہے. ان خیالات کا اظہار پنجاب کے سابق وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر نے آج یہاں انجمن فیض الاسلام میں یوم اقبال کے حوالے سے ”اقبال اور عصر حاضر“ کے موضوع پرمنعقدہ تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا.انجمن کے صدر پروفیسر ڈاکٹرریاض احمد نے تقریب کی صدارت کی جبکہ سینئر نائب صدر محترمہ اظہار فاطمہ، نائب صدر کرنل (ر) جمیل اطہر، جنرل سیکریٹری گروپ کیپٹن(ر) پرویز اختر، جوائنٹ سیکریٹری طاہر ضیا، بزم عروج ادب کے سربراہ نعیم اکرم قریشی، انجمن کے تعلیمی اداروں کے پرنسپل و اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی. ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ ہمارے تمام ٹی وی چینلز پر چھوٹے بڑے سیاستدانوں کی تقاریر کسی وقفے کے بغیر گھنٹوں چلائی جا تی ہیں مگر قوم کے روحانی باپ ڈاکٹرعلامہ اقبال کے یوم پیدائش پر چند سیکنڈ کا بھی کوئی پروگرام یا ڈاکومنٹری نہیں چلائی گئی. انہوں نے کہا کہ اقبال نے جہد مسلسل کا پیغام دیا اور قرآن و سنت میں گندھے ہوئے اپنے پیغام میں ہمیں درس دیا کہ اگرایک کامیابی مل جائے تو آگے بڑھ کر دوسری کے حصول کی جدوجہد شروع کر دو. ہم سے حالیہ جنگ میں ہارنے والا انڈیا دنیا کی چوتھی بڑی معاشی طاقت بن گیا ہے اورہماری معیشت زوال پذیرہے. ہمارا دفاعی بجٹ 9 ارب ڈالر جبکہ انڈیا کا 80 ارب ڈالر ہے. انہوں نے کہا کہ جنگ جیتنے کے بعد ہمیں خوشی میں دیوانہ ہونے کی بجائے اقبال کی فکری راہنمائی میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے. انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں 4 مختلف نظام ہائے تعلیم چل رہے ہیں. بے ایمانی عروج پر ہے اور پورا نظام منافقت پر چل رہا ہے جسے بدلنا ہوگا. انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے دفاعی معاہدے کے بعد عمرے تک کے ویزوں کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے. ہمارے حکمرانوں کو سعودیہ سے اس معاملے پر بات کرنی چاہئیے. صدرانجمن پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقبال کی تعلیمات ایک سمندر ہے جن پر عمل پیرائی اقوام عالم میں ہماری سر فخر سے بلند کر سکتی ہے. انہوں نے کہا کہ بے شمار خرابیوں کے باوجود ہمارے لوگوں میں جذبہ ایمانی اور جذبہ شہادت پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے. چند ماہ پہلے ہمارے شاہین صفت سپاہیوں نے اپنے پانچ گنا بڑے دشمن کو دھول چٹا کرپوری دنیا میں پاکستانی قومی کا سر فخر سے بلندکیا. ہمیں یہی معراج اپنی معیشت، معاشرت اور دیگر شعبوں میں بھی حاصل کرنے کی ضرورت ہے. انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے 50 فی صد سے زائد سرمایہ کاری انڈیا میں کر رکھی ہے مگر جنگی برتری کی بدولت وہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا. دفاعی حوالے سے جب پاکستان کا نام دنیا میں بلندہوتا ہے تو اقبال یادآتا ہے. انہوں نے کہا کہ اقبال کی پیش کردہ تعلیمات قرآن اور نبی کریم ﷺ کے فرامین سے جڑی ہوئی ہیں جو ایک مسلمان کو اسلام کے اعلی اوصاف کے ساتھ جوڑ کرصالح اور فلاحی معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتی ہیں.محترمہ اظہارفاطمہ، کرنل (ر) جمیل اطہر،نعیم اکرم قریشی اور دیگر مقررین نے بھی اپنے خطاب میں علامہ ڈاکٹر محمداقبال کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کی امامت ہمارا ذمہ ہے. انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ نصاب سے ہٹ کر اقبال کو پڑھیں اور سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوں. اس موقع پر انجمن کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ اوربچوں نے تقاریر کیں اور چھوٹی کلاس کے بچوں نے خوبصورت ٹیبلوز اور کلام اقبال پر پرفارمینس پیش کی.
Load/Hide Comments























