
مور خہ 25نومبر 2025
کراچی 25 نومبر
اجلاس میں چھ نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا جن پر آئی جی سندھ سمیت متعلقہ ڈی آئی جیز نے پوائنٹ ٹو پوائنٹ بریفنگ دی۔ایجنڈا میں گرفتار منشیات مافیا، فارنزک لیب کی کارکردگی،کیمیکل زدہ دودھ سے متعلق تفتیش، لینڈ مافیا کے خلاف کیسز، صوبائی سائبر کرائم یونٹ کی تجویز اور کچہ ایریاز میں پولیس آپریشنز شامل تھے۔چیئرپرسن قائمہ کمیٹی فریال تالپور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات ایک لعنت ہے جو ہمارے بچوں کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے، اس کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن میں کوئی نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری رہنا چاہیے۔لینڈ مافیا کے حوالے سے چیئرپرسن قاٰئمہ کمیٹی نے کہا کہ قبضہ مافیا سندھ میں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیٹی کی سفارشات اور کارروائیاں میرٹ پر ہونی چاہئیں۔سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی تجویز پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اس سلسلے میں خط و کتابت کی گئی ہے تو اسے فوری طور پر ان کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ وفاقی حکومت سے بات چیت کی جا سکے۔کچہ ایریاز میں جاری پولیس ایکشن پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جیز لاڑکانہ اور سکھر سمیت نوجوان افسران نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔بدنامِ زمانہ ڈاکو ساتھی جتوئی کی ہلاکت پر فریال تالپور نے ایس ایس پی شکارپور جبکہ ایس ایس پی سٹی کو بھی اچھی کارکردگی پر خصوصی شاباش دی۔وزیر داخلہ سندھ نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ منشیات کے خلاف سندھ پولیس،ایکسائز اور اے این ایف کے اشتراک سے صوبے بھر میں جوائنٹ آپریشن جاری ہے،جبکہ سندھ کے داخلی و خارجی پوائنٹس پر تینوں اداروں کی مشترکہ چیکنگ بھی سختی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی واضح ہدایات کے باعث منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں ہورہی ہیں۔چیرمین بلاول بھٹو زرداری کے کہنے پر لینڈگریبنگ کے حوالے سے تشکیل کردہ کمیٹی کو میں ہیڈ کرتا ہوں جس میں آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، کمشنر کراچی اور آباد کے نمائندگان شامل ہیں۔وزیر داخلہ سندھ نے زور دیا کہ کمیٹی کے تمام فیصلوں میں میرٹ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔کچہ ایریاز میں جاری آپریشن سے متعلق وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ اب تک 71 ڈاکو سرینڈر پالیسی کے تحت خود کو قانون کے حوالے کر چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن اب گھوٹکی کی سمت بڑھ رہا ہے، جو بھی سرینڈر کرے گا اسے قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا،بصورت دیگر سخت ایکشن ہوگا۔ڈی آئی جیز لاڑکانہ اور سکھر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے جوان افسران کو بھی شاباش دی،جبکہ ساتھی جتوئی کی ہلاکت کے معاملے پر ایس ایس پی لاڑکانہ کو داد دی اور ایس ایس پی سٹی کی بھی کارکردگی کو سراہا۔آئی جی سندھ نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں صوبائی سطح پر جاری آپریشنز،جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں اور سکیورٹی صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے تحت 9810 ایف آئی آرز کے ذریعے 12,623 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ان کارروائیوں کے دوران 26 ملزمان زخمی جبکہ 7 ہلاک ہوئے۔گٹکا اور ماوا کے خلاف پولیس کی کارروائیوں میں بھی نمایاں کامیابی سامنے آئی۔آئی جی سندھ کے مطابق 9786 کیسز کے تحت 12,407 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی سے متعلق خصوصی مہم کے تحت فہرست میں شامل 75 میں سے 68 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔کیمیکل زدہ اور مضر صحت دودھ کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف پولیس ایکشن کی تفصیلات بھی اجلاس میں پیش کی گئیں۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ 7 مقدمات میں 9 ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ اس موقع پر چیئرپرسن قائمہ کمیٹی فریال تالپور نے سخت اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور کمشنر کراچی ایسے جرائم کے خلاف ہر ممکن اقدام یقینی بنائیں۔لینڈ مافیا کے خلاف صوبے بھر میں جاری آپریشنز سے متعلق آئی جی سندھ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 326 کیسز کے تحت 769 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس کے تحت پولیس کا کریک ڈاؤن بلاتوقف جاری ہے۔کچہ ایریاز میں جاری آپریشنز کی بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ پولیس کی دلیرانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 1368 ڈاکو گرفتار ہوئے جبکہ 508 زخمی ڈاکو بھی قانون کی گرفت میں آئے، یہ تعداد مجموعی گرفتاریوں کے علاوہ ہے۔ اس دوران 190 ڈاکو پولیس مقابلوں میں ہلاک بھی ہوئے۔آئی جی سندھ نے مزید بتایا کہ پولیس نے انتہائی خطرناک اور مطلوب ڈاکوؤں کو بھی گرفتار کیا ہے جن میں آدم تیغانی، فرید تیغانی، حاکم علی تیغانی اور نیازو شامل ہیں۔ یہ ملزمان قتل، ڈکیتی، رہزنی،اغواء برائے تاوان اور ہنی ٹریپ جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھے۔گرفتار ملزمان میں شامل حاکم علی تیغانی کی گرفتاری (زندہ یا مردہ) پر حکومت سندھ نے 2 ملین روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔آئی جی سندھ نے کہا کہ صوبے میں جرائم کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے لیے پولیس تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے اور کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔آئی جی سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ صوبائی سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی تجویز وفاقی حکومت کو بھجوائی گئی ہے،اغواء برائے تاوان کی شرح صفر ہو چکی ہے،جبکہ ہنی ٹریپ کے چار کیسز پر صوبے بھر میں کام جاری ہے۔اجلاس میں ارکان صوبائی اسمبلی و کمیٹی کے ممبران، صائمہ آغا،سہیل انور سیال،شام سندر، سعدیہ جاوید،خرم کریم سومرو،محمد قاسم،محمد فاروق، سجاد علی،شارق جمال کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری، ایکسائز، قانون سیکریٹریز، ایڈیشنل آئی جیز،سی ٹی ڈی، کراچی،اور تمام ڈی آئی جیز سندھ نے شرکت کی۔























