
*یورپی یونین کے مانیٹرنگ مشن کی کراچی آمد، وزیراعلیٰ سندھ کا خیرمقدم*
*وزیراعلیٰ سندھ کی وفد کو حکومتی اقدامات، قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بریفنگ*
*سندھ کا معاہدہ عملدرآمد سیل جی پی ایس پلس اسکیم کے تقاضوں کو پورا کرنے کےلیے سرگرم ہے، وزیراعلیٰ*
*آئندہ جی پی ایس پلس فریم ورک میں بےجا سخت شرائط سے گریز کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ*
*یورپی وفد کی حکومت سندھ کے اقلیتوں، خواتین اور ٹرانس جینڈرز سے متعلق اقدامات کی تعریف*
کراچی (25 نومبر): سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے منگل کے یورپی یونین کی مانیٹرنگ مشن کا کراچی آمد پر خیرمقدم کیا جو کہ جی ایس پی پلس اسکیم کے پانچویں دو سالہ جائزے کے سلسلے میں دورہ کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق، بہتر طرزِ حکمرانی، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ترقی کے لیے سندھ حکومت کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔
یورپی یونین کے سات رکنی وفد کی قیادت مسٹر سرجیوعو بلیبریا، ایڈوائزر برائے جی ایس پی پلس ڈائریکٹوریٹ، ڈائریکٹوریٹ جنرل ٹریڈ نے کی۔ وفاقی سیکریٹری تجارت جوڈ پال نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ سندھ کی جانب سے صوبائی وزراء سعید غنی اور سید ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، سیکریٹری برائے وزیراعلیٰ عبدالرحیم شیخ، سیکریٹری قانون احمد علی بلوچ، سیکریٹری انسانی حقوق خالد چچڑ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔
*انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق، اقلیتوں کا تحفظ اور سماجی بہبود*
اجلاس میں انسانی حقوق، ٹرانس جینڈر افراد کے تحفظ سمیت اقلیتوں کے حقوق، محنت کشوں کے معائنے، کام کی جگہوں پر سلامتی، بچوں کے حقوق، ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کے مرحلہ وار انتقال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ یورپی یونین کے وفد نے سندھ کی کوششوں خصوصاً انسانی حقوق کے تحفظ، اقلیتوں کی فلاح، سماجی تحفظات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو سراہا۔ مسٹر سرجیوعو بلیبریا نے کہا کہ انسانی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے سندھ حکومت کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔
*وزیراعلیٰ کی جانب سے یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری کی اہمیت پر زور*
وفد کے خیرمقدم کے دوران وزیراعلیٰ نے یورپی یونین کو حقوق کی بنیاد پر طرزِ حکمرانی کے فروغ میں ایک دیرینہ شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ ہماری شراکت داری نہایت اہم ہے۔ جی ایس پی پلس کی سہولت پاکستان کی برآمدات، پائیدار ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت جی ایس پی پلس کے پانچویں دو سالہ جائزے کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور سندھ حکومت وزارتِ تجارت اور وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی کمیشن کو جمع کرائے گئے تفصیلی جوابات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کاوش کی نمائندگی کرتے ہیں۔
*سندھ معاہدہ عملدرآمد سیل*
وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ کے معاہدہ عملدرآمد سیل (ٹریٹی امپلیمینٹیشن سیل – ٹی آئی سی) کے فعال کردار کو اجاگر کیا جو جی ایس پی پلس اسکیم سے منسلک تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین مشن کے کراچی دورے کے دوران صوبائی ٹی آئی سی دفتر کے دورے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے ’’براہِ راست رابطے اور جائزے کا مثبت موقع‘‘ قرار دیا۔
*سندھ بطور پاکستان کا برآمدی مرکز؛ جی ایس پی پلس کا تسلسل ضروری*
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ ملک کا بنیادی برآمدی مرکز ہے جہاں ٹیکسٹائل، چمڑے، ماہی گیری اور مینوفیکچرنگ کی صنعتیں نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کا تسلسل روزگار کے مواقع، خواتین کی معاشی خود مختاری، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی معاونت اور غربت میں کمی کے لیے ناگزیر ہے۔‘‘
انہوں نے یورپی یونین پر زور دیا کہ آئندہ جی ایس پی پلس فریم ورک میں ’’بے جا سخت شرائط‘‘ سے گریز کیا جائے اور کہا کہ پاکستان یورپی یونین کی جانب سے استعدادکار میں اضافے اور تکنیکی معاونت کا خیرمقدم کرے گا۔
*یورپی وفد کی جانب سے سندھ کی اصلاحات اور پیش رفت کی تعریف*
یورپی یونین کے وفد نے محنت کشوں کے حقوق، خواتین کے حقوق اور ٹرانس جینڈر افراد کے تحفظ کے حوالے سے سندھ کی پیش رفت کو سراہا۔وفد کے ساتھ درج ذیل امور پر بریفنگ شیئر کی گئی
*انسانی حقوق اور سماجی انصاف*
وفد کو بتایا گیا کہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کو 2023 تا 2025 کے دوران 491 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 50 فیصد حل کر دی گئیں جبکہ 62 از خود نوٹس کیسز نمٹا دیے گئے۔ صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی کے باقاعدہ اجلاس نگرانی کو یقینی بناتے ہیں۔
2022کے تشدد اور حراستی ہلاکت ایکٹ کے تحت 2,000 پولیس افسران کو تربیت دی گئی۔ خواتین سے متعلق تشدد کے 1,356 مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں جن میں 154 سزائیں دی جا چکی ہیں، جو عدالتی رسائی میں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
اقلیتوں کے تحفظ کے لیے قائم 33 پولیس ڈیسک فعال ہیں جبکہ 403 عبادت گاہوں کی مرمت و بحالی کی گئی۔ صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم خصوصی کمیشن نے 41 کیسز نمٹا دیے۔
*خواتین کا بااختیار بنانا اور ٹرانس جینڈر شمولیت*
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 6 لاکھ سیلاب متاثرہ گھروں کی رجسٹریشن خواتین کے نام پر کی گئی ہے اور اسے ’’بااختیار بنانے کا تاریخی قدم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنک بسیں، فنی تربیت اور سرکاری ملازمتوں میں 15 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے اہم اقدامات ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مقامی کونسلوں میں نشستیں اور ملازمتوں میں 0.5 فیصد کوٹہ ٹرانس جینڈر برادری کے لیے مختص ہے۔
*محنت کشوں کے حقوق اور معائنے*
وزیراعلیٰ نے کہا کہ محنت کشوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ محکمہ محنت سندھ نے 2025 میں 18,397 معائنے کیے جن میں 1,936 خلاف ورزیاں سامنے آئیں جبکہ 1,446 جرمانے عائد کیے گئے۔
*سندھ کا محنت سے متعلق مانیٹرنگ نظام ’’ آئی ایل او کے معیار سے دوگنا سخت‘‘*
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبے کا محنت سے متعلق مانیٹرنگ نظام ’’بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے معیار سے دوگنا سخت‘‘ ہے۔
*منشیات کے علاج و بحالی*
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 2024 کے تحت 3,600 منشیات کے عادی افراد کی بحالی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اچھی طرزِ حکمرانی اور انسدادِ بدعنوانی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
یورپی یونین نے جدید طرزِ حکمرانی میں سندھ کی پیش رفت کو سراہا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک آن لائن انسدادِ بدعنوانی نظام فعال ہے؛ 154 افسران جدید تفتیشی آلات میں تربیت یافتہ ہیں۔
*ماحولیاتی تبدیلی اور صاف توانائی*
اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں مینگرووز کے جنگلات کا رقبہ 2010 کے 160,000 ہیکٹر سے بڑھ کر 2025 میں 265,000 ہیکٹر ہو گیا ہے۔ سندھ بھر میں 39 قابلِ تجدید توانائی منصوبے فعال ہیں۔
سرکاری اسکولوں، صحت مراکز اور دفاتر کی تیز رفتار شمسی توانائی پر منتقلی جاری ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ کا ماحولیاتی لائحۂ عمل ’’پاکستان کے لیے ایک نمونہ‘‘ ہے۔
*بچوں کا تحفظ اور خصوصی تعلیم*
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2025 کے چائلڈ لیبر سروے کے مطابق بچوں سے جبری مشقت کی شرح 20.6 فیصد سے کم ہو کر 10.3 فیصد رہ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 5,700 آٹزم کے شکار بچے سی آر یوز میں داخل ہیں جبکہ 66 خصوصی تعلیمی مراکز میں 4,190 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
*سماجی شعبے میں سرمایہ کاری*
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ کا سماجی شعبے کا بجٹ تین برسوں میں 899 ارب روپے سے بڑھ کر 1,283 ارب روپے ہو گیا ہے۔
یورپی یونین کے وفد نے صوبے کی تیز رفتار ماحولیاتی اقدامات، صاف توانائی کے منصوبوں اور بچوں کے حقوق میں اصلاحات کو ’’مثبت اور مؤثر‘‘ قرار دیتے ہوئے سراہا۔
اجلاس کا اختتام جی ایس پی پلس سے متعلق جاری اور آئندہ اقدامات کے جامع جائزے پر ہوا۔ وزیراعلیٰ نے اعتماد کا اظہار کیا کہ جاری اصلاحات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور یورپی یونین کے ساتھ تعمیری تعاون سے پانچواں دو سالہ جائزہ کامیابی سے مکمل ہوگا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ’ہم یورپی یونین کے اعتماد کے شکر گزار ہیں۔ سندھ نے تمام شعبوں میں قابلِ پیمائش نتائج دیے ہیں اور شفاف، مؤثر اور حقوق پر مبنی طرزِ حکمرانی کے لیے پرعزم ہے۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ























