اے اے فریدی کو بچھڑے پانچ سال،

سچ تو یہ ہے،

==========
بشیر سدوزئی
==========
آہ! وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے۔ آج پھر 25 نومبر آ گیا۔ وہی تاریخ، وہی دن، مگر انجانی سی اداسی کے ساتھ۔ پانچ برس بیت گئے، مگر یوں لگتا ہے جیسے ابھی کل کی ہی بات ہو کہ کراچی کی صحافت کے ایک خوش گفتار، خوش دل، بے بدل انسان ابوذر احمد فریدی، ہم سب کے اے اے فریدی، اپنے پیاروں کو روتا چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے جانے سے صرف ایک کرسی خالی نہیں ہوتی، ایک دنیا ویران ہو جاتی ہے۔ فریدی صاحب انہی ہستیوں میں شامل تھے۔ وہ جہاں بیٹھتے، محفل کشتِ زعفران بن جاتی۔ ایسی برجستگی، ایسی بذلہ سنجی اور ایسی برجستہ گفتگو کہ سننے والے دیر تک اس کی گرمی محسوس کرتے رہتے۔ وہ محفل کے صرف مزاحیہ رنگ نہیں تھے، بلکہ اس کے وقار اور دل تھے۔
فریدی صاحب کی شخصیت کے دو پہلو ہمیشہ نمایاں رہے، انسانی محبت اور پیشہ ورانہ دیانت۔
دوست بنانا ان کا شوق تھا، دشمنی انہوں نے کبھی نہیں پالی۔ نہ کبھی کڑوا لفظ لکھا، نہ کسی کی دل آزاری ان کے قلم سے ہوئی۔ چھوٹی چھوٹی غلطیاں تو انسان سے ہوتی رہتی ہیں لیکن دانستہ کسی کو تنگ کرنا کبھی ان کا خاصا نہیں رہا۔صحافت کی بھری دنیا میں ایسے لوگ اب چراغِ لے کر بھی تلاش کیے جائیں تو مشکل سے ملتے ہیں۔
کراچی کی صحافت میں وہ ایک معتبر نام تھے۔ متعدد اخبارات کے ایڈیٹر رہے، بے شمار مضامین لکھے جن میں حالاتِ حاضرہ کی نبض بھی تھی اور عام آدمی کا دکھ بھی۔ مگر ان کی سب سے بڑی میراث شاید ان کا انسان ہونا تھا۔ وہ ہمدرد تھے، مددگار تھے، غم گسار تھے۔ صحافیوں کی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ تھے۔ ان کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا، مشورے کے لیے، حوصلہ افزائی کے لیے، اور کبھی صرف ایک کپ چائے پر بے تکلف گفتگو کے لیے۔
گھر میں بھی وہ اسی طرح نرم دل، ملنسار اور دوستانہ فضا رکھنے والے تھے۔ انہوں نے گھر کو گھر نہیں، ایک خاندان کی طرح سجائے رکھا۔ ان کے جانے کے بعد سب یہی کہتے پائے گئے کہ “وہ صرف والد یا بھائی نہیں تھے… وہ گھر کی رونق تھے۔”
موت نے انہیں ہم سے جدا تو کر دیا، مگر یادیں کون چھین سکا ہے؟ آج بھی صحافتی حلقوں میں ان کا ذکر احترام سے ہوتا ہے، ان کے جملے، ان کی مسکراہٹ، ان کی محفل آرائی سب کچھ زندہ ہے۔ یادوں کی بارش گر بھی جائے، مگر ان جیسی شخصیات کا چراغ بجھتا نہیں، صرف روشنی بدل جاتی ہے۔
میرے ان کے ساتھ بہت ہی بے تکلف اور دوستانہ تعلقات تھے جو کبھی فراموش نہیں ہو سکتے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں بلند درجات عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
آمین یا رب العالمین۔