بدعنوانی، ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے: الطاف شکور متعلقہ ادارے سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں

بدعنوانی، ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے: الطاف شکور
متعلقہ ادارے سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں
سیاسی مداخلت، غیر شفاف تقرریاں اور کمزور نگرانی بدعنوانی کے خطرات کو بڑھارہی ہیں
احتسابی اداروں میں ہم آہنگی کا فقدان ہے، سیاسی اشرافیہ بدعنوانیوں میں لوث ہے

کراچی ( )پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ بدعنوانی ملک کی سرحدیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ متعلقہ اداروں کو اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔ بدعنوانی ملک کو صرف براہ راست مالی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ سرمایہ کاری میں کمی، کمزور گورننس اور غیر مؤثر سرکاری اخراجات کی وجہ سے معیشت کو زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ میں بدعنوانی کو مسلسل مسئلہ قرار دیا ہے۔آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق بجٹ سازی، رپورٹنگ، شفافیت، سرکاری خریداری اور ریاستی اداروں میں گورننس کی شدید خامیاں پائی جاتی ہیں۔ سیاسی مداخلت، غیر شفاف تقرریاں اور کمزور نگرانی بدعنوانی کے خطرات کو بڑھاتی ہے۔ ٹیکس کا پیچیدہ نظام، ایف بی آر کے کمزور کنٹرول، عدلیہ کے مسائل، مقدمات کے انبار، پرانے قوانین اور کمزور عملدرآمد ملک میں قانونی اور معاشی بے یقینی کو جنم دیتے ہیں۔ الطاف شکور نے کہا کہ احتسابی اداروں میں ہم آہنگی کا فقدان ہے اور سیاسی اثر و رسوخ ان کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ آئی ایم ایف نے اینٹی کرپشن اداروں میں میرٹ اور شفاف تقرریوں اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کو مزید بااختیار بنانے کی سفارش کی ہے۔ ملک کی سیاسی اشرافیہ، بشمول حکمران، بدعنوانیوں میں ملوث ہے۔ ”عمر بھر کااستثنیٰ“ کا تصور قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اگر پاکستان گورننس اور شفافیت کے ذریعے کرپشن پر قابو پا لے تو اگلے پانچ سالوں میں جی ڈی پی میں 5 سے6.5 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔آئی ایم ایف نے بااثر طبقے کو پاکستان میں بدعنوانی کا مرکزی محرک قرار دیا ہے، جہاں سیاسی و معاشی اشرافیہ اپنی پسند کی پالیسیاں بنواتی ہے۔2019 میں چینی برآمد کرنے کی اجازت کا فیصلہ سیاسی طور پر جڑے مل مالکان کے فائدے میں تھا۔ آج بھی چینی مافیا ملک میں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور چینی200 روپے فی کلو سے زائد میں فروخت ہو رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ 50روپے سے زیادہ فی کلو ناجائز منافع کمایا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ٹیکس کا نظام پیچیدہ، رعایتوں سے بھرا ہوا اور ایف بی آر کے اندرونی کنٹرول کمزور ہیں۔ عدلیہ کو انتظامی طور پر پیچیدہ قرار دیا گیا ہے، جہاں مقدمات کے انبار، پرانے قوانین، اور ججوں کی شفافیت پر سوالات موجود ہیں، جس کے سبب معاہدوں اور املاک کے حقوق کا مؤثر تحفظ ممکن نہیں۔ منی لانڈرنگ وسیع ہے، اور اصلاحات کے باوجود عملی نفاذ کمزور ہے، جبکہ سزا پانے والے کیسز انتہائی کم ہیں۔ آئی ایم ایف اس صورتحال کو کرپشن کے خطرات میں اضافہ قرار دیتا ہے۔ احتساب کے اداروں میں ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ مختلف ریگولیٹری اور نگرانی کے اداروں کے پاس مضبوط عملی خود مختاری نہیں۔ اینٹی کرپشن ادارے (جیسے نیب) سیاسی اثر و رسوخ کا شکار ہیں۔ آئی ایم ایف نے شفاف، میرٹ پر مبنی تقرریوں کی سفارش کی ہے۔ آڈیٹر جنرل کے دفتر کو مزید بااختیار اور آزاد بنایا جانا ضروری ہے تاکہ شفافیت بڑھے اور نگرانی کے خلا ختم ہوں۔ ہمارا سیاسی طبقہ، بشمول حکمران، بدعنوان ہے۔ عمر بھر کی استثنیٰ کا تصور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے۔ الطاف شکور نے مطالبہ کیا کہ جو لوگ پاکستان کو مضبوط ریاست بنانا چاہتے ہیں، وہ اس گہری اور وسیع بدعنوانی کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی کریں تاکہ ملک معاشی اور ادارہ جاتی تباہی سے بچ سکے#