ایک رکشے میں 23 لوگ سوار، پولیس اہلکار حیرت میں رہ گیا

اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آٹو رکشے میں زیادہ سے زیادہ کتنے لوگ سوار ہو سکتے ہیں، تو تلنگانہ میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

ایک معمولی سی ٹریفک چیکنگ کے دوران ایک آٹو رکشے میں 23 اسکول کے بچے سوار پائے گئے۔اسکول یونیفارم میں ملبوس یہ بچے اپنے بیگ، لنچ باکس اور پانی کی بوتلیں لیے نکل رہے تھے اور ویڈیو میں ایک ایک کرکے بچے آٹو سے باہر آ رہے تھے۔

عام طور پر آٹو رکشہ میں صرف 5 سے 6 مسافر سوار ہو سکتے ہیں، مگر ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس آٹو میں اس سے زیادہ بچے موجود تھے، جو یقینی طور پر ایک بہت بڑا خطرہ تھا۔ جب ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر کلیان نے آٹو کو روکا تو اس پر نظر پڑتے ہی فوراً کارروائی کرتے ہوئے آٹو کو ضبط کر لیا اور ڈرائیور کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی دھمکی دی۔

ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر شیئر کی گئی ویڈیو کے ساتھ یہ کیپشن تھا،
”کتنے بچوں کو آٹو رکشے میں، ان کے اسکول بیگ، لنچ باکس اور پانی کی بوتلوں کے ساتھ ٹھونسا جا سکتا ہے؟ گنتی کیجیے، آپ حیران رہ جائیں گے۔ ویڈیو نگارکورنول، تلنگانہ سے ہے، جہاں انگلش میڈیم پرائیویٹ اسکولوں کا ٹرانسپورٹ مہنگا ہے اور یہ بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔“

https://x.com/umasudhir/status/1990963359588426176?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1990963359588426176%7Ctwgr%5E51563066644b85b8c076dee654ce5ca66740db2a%7Ctwcon%5Es1_c10&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.aaj.tv%2Fnews%2F30493544

پولیس نے فوری طور پر صورتحال کو سنبھال کر بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ بچوں کو گھر پہنچانے کے لیے دو الگ گاڑیاں فراہم کی گئیں تاکہ ان کی حفاظت میں کوئی کمی نہ رہے۔

کلیان نے یہ بھی کہا کہ ایسی بے احتیاطی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور آئندہ ایسی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور لوگوں کی جانب سے شدید ردعمل آیا۔ صارفین نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”تعلیمی اخراجات بہت زیادہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ والدین سستے آٹوز کا انتخاب کرتے ہیں“۔

بہت سے لوگوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کا معیار زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں ہونا چاہیے اور ایسی صورتحال کبھی بھی برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا،”تعلیمی فیسوں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ عام والدین بھی اپنے بچوں کو محفوظ اور بہتر تعلیم فراہم کر سکیں۔“

کچھ اور صارفین نے لکھا، ”اس ویڈیو کو دیکھ کر والدین کا کیا حال ہوگا؟ میں خود بھی خوفزدہ ہوں!“ ایک اور صارف نے کہا، ”ایک حادثہ پورے خاندان کی تقدیر بدل سکتا ہے، اور یہ آٹو رکشہ میں سوار بچوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔“

ایک اور تبصرہ تھا، ”اس واقعہ نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ بچوں کے لیے تعلیمی ٹرانسپورٹ کا انتظام کیسے بہتر بنایا جائے تاکہ کسی کی جان کو خطرہ نہ ہو۔“

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ بھارت میں ایسی خطرناک صورتحال سامنے آئی ہو۔ بنگلور میں بھی 2024 میں اس قسم کے معاملات رپورٹ ہوئے تھے، جہاں اسکول بچوں کے لیے تعلیمی گاڑیوں میں زیادہ سواریاں تھیں۔ پولیس نے ان واقعات کے خلاف 1000 سے زیادہ مقدمات درج کیے تھے اور آئندہ ایسے حادثات کو روکنے کے لیے مزید سخت چیکنگ کی بات کی تھی۔