آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول2025“ کے 22 ویں روز فرانس اور پاکستانی مصوروں کی جانب سے آرٹس کونسل کی بیرونی دیوار پر بنائے گئے میورل آرٹ کا افتتاح کردیا گیا
میورل آرٹ لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے، قونصل جنرل فرانس Alexis chahtahtinsky
کے ایم سی اور آرٹس کونسل شہر کی خوبصورتی کے لیے کام کر رہے ہیں، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب
جیسے ہم اپنے کمرے کو صاف رکھتے ہیں ویسے ہی ہمیں اپنے شہر کو صاف رکھنا ہوگا، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ
کراچی () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول2025“ کے 22 ویں روز کا آغاز فرانس اور پاکستانی مصوروں کی جانب سے آرٹس کونسل کی بیرونی دیوار پر بنائے گئے میورل آرٹ سے کیا گیا جس کا افتتاح فرانس کے قونصل جنرل Alexis chahtahtinsky اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کیا۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ ان کے ہمراہ تھے۔ میورل آرٹ پیش کرنے میں فرانسیسی مصورہ Claire Pition کا اہم کردار ہے جبکہ فرانسیسی آرٹسٹ Nasty, Sety Globe اور پاکستانی مصور عفان طارق (اSpray Therapy) نے آرٹس کونسل کی دیواروں کو عالمی معیار کے میورل آرٹ سے رنگوں میں ڈھالا ہے۔ مصوروں نے میورل آرٹ میں اسپرے کے خوبصورت رنگوں کا استعمال کیا ہے۔ میورل آرٹ کی تھیم ”امن اور آزادی“ پر تھی۔ افتتاح کے موقع پر قونصل جنرل فرانس Alexis chahtahtinsky نے کہاکہ میں صدر آرٹس کونسل کا بے حد شکر گزار ہوں جنہوں نے اتنے بڑے فیسٹیول کا انعقاد کیا ہے، ورلڈ کلچر فیسٹیول میں فرانس کے فنکاروں کا آنا اعزاز کی بات ہے، میں یہاں فرانس کی نمائندگی کررہا ہوں، اس میورل آرٹ پر پاکستانی اور فرانسیسی فنکار وں نے مل کر کام کیا ہے، کراچی روشنیوں کا شہر ہے، ورلڈ کلچر فیسٹیول ایک بہت اچھا قدم ہے، آرٹ لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے، کراچی کے لوگ تھکن کے بعد جب اس طرح کے آرٹ دیکھتے ہیں تو ان کے چہرے ہنسی سے کھل ا±ٹھتے ہیں، پاکستان اور فرانس کے آرٹسٹ کی جانب سے یہ ایک کراچی کی عوام کے لیے تحفہ ہے ، آرٹس کونسل کے اندر بھی ایک دیوار پر فرانس کے آرٹسٹ شیفومی نے عمدہ کام کیا ہے، میورل آرٹ کا مطلب دیوار کی خالی جگہ کو پُر کرنا ہوتا ہے، میورل آرٹ دنیا کو تو نہیں لیکن لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے، لوگ اس طرح کی چیزوں سے خوش ہوتے ہیں۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے افتتاح کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ کراچی خوبصورت شہر ہے اس کو ہم اپنے گھر میں چھپا کر رکھتے ہیں ، کراچی کی دیواروں پر بے ہودہ پیغامات اور اشتہارات نظر آتے ہیں ، جو ہمارے ملک کی ثقافت ہے وہ چھپ رہی ہے، کراچی والوں آپ کو پان اور گٹکے والی دیواریں چاہئیں یا ایسی رنگوں سے بھری دیواریں، ہم یہ چیزیں ختم کرنا چاہتے ہیں ، کراچی شہر ہمارا گھر ہے ، کے ایم سی اور آرٹس کونسل شہر کی خوبصورتی کے لیے کام کر رہی ہے ، آپ لوگ مل کر کراچی کی انتظامیہ کی مدد کریں ، اس شہر کی دیواریں بھی اچھی ہوں گی اور یہ ہمارے لیے بھی اچھا ہے، میں کراچی کے نوجوان آرٹسٹوں سے کہتا ہوں کہ وہ آئیں اور ہمارے ساتھ مل کر کام کریں، میرا تعاون ہمیشہ آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔ صدر آرٹس کونسل نے کہاکہ فرانس کا سفارتخانہ ورلڈ کلچر فیسٹیول میں مسلسل اپنی دلچسپی کا اظہار کررہا ہے، فرانس کے تین آرٹسٹ یہاں موجود ہے، ہم نے تھیٹر فنکار اور مصوروں کے ساتھ مل کر مشترکہ کام کیا ، ہمارے المنائی اور آرٹس کونسل کے طلباءکا کام ہے، دنیا کے 142 ملکوں کے فنکار اس فیسٹیول میں شرکت کررہے ہیں ، یہ ایک عالمی سطح کا فیسٹیول ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے شہر کی مختلف دیواروں اور قدیم عمارتوں پر بھی میورل آرٹ کیا ہے۔ یہ شہر ہمارا گھر ہے، جیسے ہم اپنے کمرے کو صاف رکھتے ہیں ویسے ہی ہمیں اپنے شہر کو صاف رکھنا ہوگا، اس ملک میں میورل کام کرے گا، شہر میں گٹکا ، گندی اور کالی دیواروں کی بجائے کراچی کی دیواریں خوبصورت پینٹنگز سے بنی نظر آئیں گے، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے شہر کی خوبصورتی میں اپنا حصہ ڈالنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ فرانسیسی فنکار Nasty نے کہاکہ پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں، فرانس سفارتخانے کے لوگ یہاں موجود ہیں، یہ میورل آرٹ پاکستان اور فرانس کی ثقافت کا امتزاج ہے، یہ آرٹ پاک فرانس دوستی میں پل کا کردار ادا کررہا ہے ، پاکستان کے پاس اچھے شاعر ہیں، امید ہے یہ فیسٹیول ملکوں کو جوڑنے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کررہا ہے۔فرانسیسی مصورہ Claire Pition کا اظہارِ خیال نے کہاکہ ہم آرٹ کے ذریعے لوگوں سے مل رہے ہیں، ثقافت لوگوں سے ملنے کا ذریعہ ہے۔
























